بیرسٹر سلطان محمود نواز شریف کے بیان پر آج آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر مظاہروںکی کال دے دی

پیر مئی 20:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدربیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے نواز شریف کے ملک مخالف بیان پر آج 15 مئی بروز منگل کو آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر مظاہروںکی کال دے دی ہے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری خود بھی 15 مئی بروز منگل کو صبح 11 بجے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں آزادی چوک پر مظاہرے کی قیادت کریں گے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ ہم کشمیری عوام کی طرف سے اس مظاہرے میں شریک ہو کر یہ پیغام دیں گے کہ نواز شریف کے بیان سے تحریک آزادی ء کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ جسطرح بھارتی میڈیا نے نواز شریف کے بیان کو لیا ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کی نہیں بلکہ دہشتگردی کی تحریک ہے اور ممبئی حملے پاکستان نے کرائے۔

(جاری ہے)

نواز شریف کے اس بیان سے پاکستان کی ساکھ کوشدید نقصان پہنچا ہے بلکہ اب یہ ثابت ہو ہوگیا ہے کہ نواز شریف نے پہلے ڈان لیکس کرائی اور اب اسی صحافی اور اسی اخبار کے ذریعے اس قسم کا بیان دلوایا۔ اگر ڈان لیکس کے کرداروں کو سزا دے دی جاتی تو نواز شریف کو یہ دوبارہ کرنے کی جرات نہ ہوتی۔لہذا اب میں ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے میںبیرون ملک مقیم کشمیریوں اور آزاد کشمیر میں لوگوں سے کہوں گا کہ وہ 15 مئی کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر بھرپور احتجاج کرکے یہ ثابت کردیں کہ کشمیری عوام نے نواز شریف کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔

کیونکہ نواز شریف نے اپنی اور اپنے خاندان کی تین سو ارب کی کرپشن کو چھپانے کے لئے آخری حربے کے طور پر ملکی سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا ہے۔اس سے اب واضح ہو گیا ہے کہ نواز شریف نے مودی کے ساتھ ملکر دھاندلی کے ذریعے آزاد کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت بنوائی تاکہ تقسیم کشمیر کے ایجنڈے پر کام کیا جا سکے۔اب سب کو اس بات کی سمجھ آجانی چاہیے کہ مجھے آزاد کشمیر کے الیکشن میں کیوں ہرایا گیا کیونکہ مودی اور نواز شریف سمجھتے تھے کہ اگر میں اسمبلی میں ہوا تو تقسیم کشمیر کی سازش کامیاب نہیں ہونے دونگا۔

لہذا اب آزاد کشمیر حکومت کے قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ اگر نواز شریف کی قائم کردہ یہ کٹھ پتلی حکومت قائم رہی تو یہ نواز شریف کے لئے سہولت کار کے طور پر کام کرتی رہے گی۔ لہذا ہم آزاد کشمیر میں فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔راٹھور