پاکستان غیر مستحکم خطے میں مستحکم ملک ،جمہوریت ہی اظہارِ رائے کی تحفظ کا ضامن ہے،خرم دستگیر خان

ریاست کو مختلف قسم کے دہشتگردی کا سامنا رہا ،آج ملک میں ہر طرف اچھی خبریں ہیں، حکومت کی کوششوں سے آج چترال سے کراچی تک امن قائم ہو اہے،وزیر دفاع ماضی میں اظہار رائے کی آزادی سلب ہو تی رہیں،حالیہ سالوں میں ملک کو درپیش دہشتگردی کے چیلنجز کے باجود صحافیوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی، کانفرنس سے خطاب

پیر مئی 22:30

پاکستان غیر مستحکم خطے میں مستحکم ملک ،جمہوریت ہی اظہارِ رائے کی تحفظ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پانچ سال پہلے پاکستان مستحکم خطے میں غیر مستحکم ملک تھا جبکہ آج غیر مستحکم خطے میں مستحکم ملک ہے،قوم اور پاک افوج نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایاہمیںمختلف طریقوں سے آزمایا گیا،ریاست کو مختلف طریقوں کے دہشتگردی کا سامنا رہا ،کہیں فرقہ واریت، کہیں انتہا پسندی،کہیں لسانیت اور کہیں علاقیت نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیے رکھا،آج پاکستان میں ہر طرف اچھی خبریں ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میںاے پی پی کے زیر اہتمام بین الاقوامی نیوز ایجنسیز کانفرنس کے اختتامی سیشن میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین میں اظہار رائے کی آزادی کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی، جمہوریتہی اظہار رائے کے تحفظ کا ضامن ہے،تاریخ میں پہلی مرتبہ دوسری منتخب حکومت اپنی مدت پوری کررہی ہے،ہمیں دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ صحافت کی آزادی کیلئے جمہوریت کا مستحکم ہوناضروری ہے،ماضی میں اظہار رائے کی آزادی سلب ہو تی رہیں،حالیہ سالوں میں ملک کو درپیش دہشتگردی کے جیلنجز کے باجود صحافیوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو 2013 میں پاکستان خون اور اندھیروں میں ملی،ملک میں روزانہ اوسطاًً دہشتگردی کے 6 واقعات ہوتے تھے،توانائی بحران کی بدولت ملک کی معیشت تباہ ہو چکی تھی،اللہ کے فضل سے آج ملک میں ہر طرف اچھی خبریں ہیں، حکومت کی کوششوں سے آج چترال سے کراچی تک امن قائم ہو اہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباًً18 ہزار سویلین اور6 افسران و جوانوں نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا،پاکستانی عوام اور آرمی نے نا ممکن کو ممکن کردکھایا،قوم کو ذہنی اذیت سے گزرنا پڑا،آج ملک کی گروتھ ریٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے، زرعی شعبہ میں ترقی ہو رہی ہے، ملکی گروتھ میں تقریباًً 6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے،انتخابات میں عوام نے ن لیگ کو خدمت کا پھر موقع دیا تو آئندہ سال ملکی گروتھ6 سے عبور کریگا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ان پانچ سالوں کی سب سے بڑی کامیابی چین پاکستان اقتصادی راہداری(((سی پیک)) ہے ،جس کے ذریعے گوادر کے ذریعے وسطیٰ ایشیائی ممالک کو کاشغر سے ملایا جائے گا، سی پیک کے سے پاکستانی جوانوں بالخصوص روزگار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے،،پاکستان دنیا کو جوڑنے کا مرکز ہو گا،پانچ سال پہلے پاکستان تقریباًً دنیا سے کٹا ہوا تھا،،پاکستان کے ائیر پورٹس دنیا کے ممالک کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، جس سے پاکستان میں آنے والوں بالخصوص سیاحوں کی آمد میںاضافہ ہوا ہے،پاکستانی حساس قوم ہے، یہ حالات سے مقابلہ جانتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو آج بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، پانچ سال پہلے سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا میں تقسیم تھی، اب سوشل میڈیا روایتی میڈیا سے آگے نکل رہا ہے، سوشل میڈیا میں جھوٹی خبریں میڈیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے،اس وقت عوام کا اعتماد برقرار رکھنا میڈیا کیلئے آسان نہیں،،دنیا کے دیگر کے درمیان صحت مند راوبط کیلئے میڈیا کے درمیان تعلق لازمی ہے،بین الاقوامی ممالک کے میڈیا نمائندوں کا ایک ساتھ مل بیٹھا خوش آئند ہے، اس سے میڈیا کو درپیش چیلنجز کو حل کر نے اور مستقبل کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی، بعد ازاں وزیر دفاع نے بین الاقوامی مندوبین کو شیلڈ بھی پیش کیں۔قبل ازیںکانفرنس کے شرکاء نے متفقہ قراراد منظور کی جس میں انٹرینشل فورم آف نیوز ایجنسیز کا قیام،ہر سال IFNA سیکرٹریٹ رکن ممالک کے درمیان روٹیٹ کریگی،الگ ویب سائڈ کے ذریعے تصویروں، خبروں اور ویڈیوز کو شیئر کریگی،افنا پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دیگی جو فورم کے بنیادی اغراض و مقاصد کا تعین کریگی،ہر سال کی بہترین تصویر، خبر اور ویڈیو ایوارڈ بھی دی جائے گی۔