پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں لاہور قلندرز کا کپتان کون ہوگا، فواد رانا کے اچانک اعلان نے نئی بحث چھیڑ دی

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ، لاہوریوں کے سامنے جوابدہ ہوں، مکیلم کوکپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ ٹیم کرے گی، فواد رانا

پیر مئی 22:32

پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں لاہور قلندرز کا کپتان کون ہوگا، فواد رانا ..
لاہور۔14 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پی ایس ایل فرنچائز لاہور قلندر کے فواد رانا کا کہنا ہے کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے مگر پوسٹ مارٹم کر یں گے،اپنے آپ کو لاہوریوں کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہوں، مکیلم کوکپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ ہماری ٹیم کرے گی، پرائیڈ آف لاہور ایوارڈ دینے پر شکر گزارہوں۔لاہور قلندر کے چیئرمین فود رانا نے پروگرام "سجال کے مہمان" میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا ہے ، ہم پانچ چھ کھلاڑی پاکستان کو دے چکے ہیں ، کوشش ہے کہ پاکستان کے بنچ پرانٹرنیشنل معیار کے تیس کھلاڑی میسر آ سکیں۔

پی ایس ایل میں جیت کے لئے ہی مہنگے کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے مگراپنی شکستوں پر پوسٹ مارٹم کریں گے اور تاکہ جائزہ لے کر مستقبل کے لئے بہتر پلاننگ کی جاسکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے لاہوریوں کے اتھ ساتھ پرے پاکستان کے شائقین کی جانب سے دی جا نے والی محبت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ا ہم لاہوریوں کوجوابدہ ہیں، کوشش ہو گی کہ مستقبل میں کامیابی حاصل کر کے سرخرو ہو سکوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کو کامیاب کرنے میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور قلندر نے کئی ایک کھلاڑیوں کو متعارف کرایا ہے اور پانچ چھ کھلاڑی قومی ٹیم کو دے چکے۔ آئرلینڈ میں جو پرفارم کر رہے ہیں وہ پی ایس ایل کے ہی پرفارمر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور سے بہت محبت ہے، چالیس سال پہلے خواہش تھی کہ لاہور کا کونسلر ہی بن جاؤں۔

لاہور ایک ایسا شہر ہے جہاں شاہ عنائت ،داتا در بار اور دیگر اولیا کے علاوہ فیض احمد فیض، ساغر صدیقی ،نور جہاں جیسے لوگ رہتے تھے۔ لاہور کی میں بہت عزت کرتا ہوں آج اس نے مجھے عزت دی اور مجھے اس نے ایوارڈ دیا۔ چیمبر آف کامرس، لاہور قلندرز اور سپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن لاہور کابھی شکر گزار ہوں۔ پی ایس ایل بارے ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ پی ایس ایل صاف لیگ ہے۔

پی ایس ایل کے سٹینڈرڈ کو بہتر بنانا مقصد ہے۔ شروع سے اس بات کا قائل ہوں کہ جو کھلاری پاکستان آ کر کھیلنا چاہتے ہیں صرف انہی غیر ملکیوں کو کنٹریکٹ دئے جائیں۔ مالی فائدہ پر زیادہ توجہ نہیں دی، چاہتے ہیں پوری پی ایس ایل پاکستا ن میں ہو اور اس میں پاکستان کے ٹاپ کھلاڑی کھیلیں۔ عمر اکمل بڑے اچھے کھلاڑی ہیں۔ وہ پلاٹینم پلئیر ہیں لیکن انہوں نے پرفارم نہیں کیا،تاہم ہم نے انہیں عزت دینے کے لئے ہی ریست دیا۔

برینڈن مکلم ا ور عمر اکمل میں کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ وہ کیربئین پریمئیر لیگ میں اکٹھے کھیلتے ہیں ان میں کوئی ناراضگی نہیں تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی کوچ رکھ کر دیکھ لیا۔ ٹی ٹوئنٹی لیگ میں کوچز کا زیادہ کردار نہیں ہوتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ شہر میں کرکٹ کو مزید فروگ دینے کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں مگر فی الوقت بعض مسائل ہین مگر جلد ہی س پروگرام پر عمل کریں گے۔