لاہور،پنجاب حکومت نے صاف پانی سمیت 56 کمپنیوں کی تشکیل اراکین قومی اسمبلی کو نوازنے کے لیے بنائی، درخواست گزار

قائد حزب اختلاف صوبائی اسمبلی میاں محمود الرشید اور دیگر کی درخواستوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم

پیر مئی 21:25

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے صاف پانی سمیت 56 کمپنیوں کی تشکیل اور رکن صوبائی اسمبلی کی کمپنیوں میں بطور سربراہان تقرریوں کے خلاف دائر درخواستوں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دے دیا عدالت نے درخواستگزار وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی 21 مئی تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے قائد خزب اختلاف صوبائی اسمبلی میاں محمود الرشید اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے صاف پانی سمیت 56 کمپنیوں کی تشکیل اراکین قومی اسمبلی کو نوازنے کے لیے بنائی شیراذ ذکا نے اعتراض اٹھایا کہ 56 کمپنیوں کی تشکیل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے وکیل نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ لوکل گورمنٹ کی موجودگی کے باوجود ایسی کمپنیوں کی تشکیل غیرضروری ہے درخواست میں نشاندہی کی کہ عوامی پیسے سے بننے والی کمپنیوں سے عوام رتی بھر بھی مستفید نہ ہو سکے درخواستوں میں الزام لگایا کہ کمپنیوں میں اراکین قومی اسمبلی کی تقرریاں بھی غیر قانونی ہے درخواستوں میں قانونی نقطہ اٹھایا کہ عوامی عہدہ رکھنے والے نمائندہ کسی کمپنی کا سربراہ نہیں رہ سکتا درخواستوں میں استدعا کی کہ عدالت کمپنیوں کی تشکیل اور عوامی نمائندوں کی تقرریاں کالعدم قرار دے اسی معاملے پر درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق پیش نہ ہوئی اور حاظری معافی کی درخواست جمع کروائی گئی جس میں سماعت 21 مئی تک ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے درخواستوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دے دیا درخواستوں پر مزید کارروائی 15 مئی کو ہوگی۔