پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے قتل ، اغوا ء، جسمانی تشدد، گرفتاریوں ، دھمکیوں اور ہراساں کرنے کی واقعات میں تیزی سے اضافہ

گزشتہ دس برسوں میں قتل ہونیوالے ایک سو سے زائد صحافیوں اور میڈیا ملازمین میں سے صرف 3 کے مقدمات میں قاتلوں کو قصور وار ٹھہرایا گیا شہید ہونے والے میڈیا ورکرز پاکستان کے ہیرو ہیں ، حکومت شہید صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو قومی سطح پر شہید کا درجہ دے،راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلٹس (برنا) کے زیر اہتمام ’’شہید صحافت کو سلام ‘‘ کے عنوان سے سیمینار سے مقررین کا خطاب

پیر مئی 21:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے قتل ، اغوا ء ، جسمانی تشدد، گرفتاریوں ، دھمکیوں اور ہراساں کرنے کی واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے گزشتہ دس برسوں میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہونے والے ایک سو سے زائد صحافیوں اور میڈیا ملازمین میں سے صرف 3 کے مقدمات میں قاتلوں کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

شہید ہونے والے میڈیا ورکرز پاکستان کے ہیرو ہیں ۔

(جاری ہے)

حکومت شہید ہونے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو قومی سطح پر شہید کا درجہ دے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلٹس (برنا) کے زیر اہتمام ’’شہید صحافت کو سلام ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہ سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا سیمنار سے سینئر صحافی طارق وراثی، آرآئی یو جے کے قائم مقام صدر فدا شیرازی، نائب صدر سید نوید حسین نقوی ، سیکرٹری جنرل محمد صدیق انظر، نجف شیرازی اور دیگر نے خطاب کیا سٹیج سیکرٹری کے فرائض ظہیر عالم نے انجام دیئے معززین نے اپنے خطاب میں شہید ہونے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے زبر دست انداز میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں صحافت کے حوالے سے خطرناک ممالک میں شامل ہے یکم مئی 2017 سے یکم مئی 2018 تک میڈیا کے خلاف حملوں کی تعداد 157 ریکارڈ کی گئی ہے یہ واقعات چاروں صوبوں کے علاوہ وہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ریکارڈ کئے گئے ہین مقررین نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لئے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں جب تک صحافیوںپر حملوں میں ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی، صحافی تشدد کا نشانہ بنتے رہیں گے سیمنار کے اختتام پر شہید ہونے والے صحافیوں کے لواحقین میں گولڈ میڈل ، شلیڈز اور اسناد بھی تقسیم کی گئیں جبکہ صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تعریفی اسناد بھی دی گئیں