جڑانوالہ، ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود پولیسعابدہ قتل کیس کے اصل حقائق منظر ِعام پر نہ لا سکی

پیر مئی 22:48

جڑانوالہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) جڑانوالہ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود پولیس یونیورسٹی طالبہ کیس کے اصل حقائق منظر ِعام پر نہ لا سکی۔ قاتل بے نقاب نہ ہونے کی وجہ سے والدین کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ کی رہائشی عابدہ جو کہ فیصل آباد یونیورسٹی میں ایم اے انگلش کی طالبہ تھی۔ 25 مارچ کو یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے اسے اغوا کیا گیا اور مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر کے اس کی نعش نہر میں بہا دی گئی تھی۔

طالبہ کے اغواء کے تین روز بعد ڈجکوٹ نہر سے نعش ملی تو طالبہ سے مبینہ زیادتی قتل اغوا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یونیورسٹی طالبہ کے اغوا زیادتی اور قتل کی لرزہ خیز واردات پر طلبہ تنظیموں اور ورثا نے احتجاج کیا اور جڑانوالہ میں شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی جس پر آئی جی پنجاب نے رپورٹ طلب کی تو آر پی او فیصل آباد نے SSP انوسٹی گیشن ناصر سیال کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں پولیس نے عابدہ کے موبائل ڈیٹا کی مدد سے مقتولہ کی دوست کے بھائی سمیت تیس سے زائد افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی مگر ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود پولیس تا حال اصل قاتل بے نقاب نہ کر سکی ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حقائق مسخ کرنے پر لیڈی ڈاکٹر کو بھی شامل تفتیش کیا۔ مگر افسران بالا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سب اچھا کی رپورٹ پیش کر دی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق پولیس حتمی پورٹ میں یونیورسٹی طالبہ قتل کیس کو خود کشی واقعہ قرار دے کر معاملہ کو دبا دیا ہے۔ جس پر والدین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید سائنسی ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود کیس حل نہ ہونا پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ لہذا چیف جسٹس آف پاکستان از خود نوٹس لے کر رپورٹ طلب کریں۔