ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کو عالمی حمایت حاصل، سی پیک منصوبہ اس کا تسلسل ہے،

چین منصوبہ رابطے اور تعاون کی بہترین مثال،رواں سال کے آخر تک سی پیک کے تحت پاکستان میں 28بلین ڈالر کے منصوبے مکمل کر لئے جائیں گے، اوبور منصوبہ کے تحت گذشتہ 5سالوں میں چین کا تجارتی حجم 5تریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا، چین نے 6سالوں مین ریکارڈ ترقی کے مراحل سر کئے ، منصوبہ کے ساتھ عالمی ترقی کو فروغ دینا ممکن ،چین کومنصوبہ کے تحت ایک لاکھ80ہزار ملازمتیں اور1.1بلین ڈالر سے زائد ٹیکس آمدنی حاصل ہوئی،طاقت کی بجائے اشتراکیت کا عمل اپنایا جائے،عالمی معیشت کی پائیدار ترقی کا ضامن منصوبہ ہے، مقررین کا اوبور منصوبہ کی 5ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب

پیر مئی 22:52

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) چین نے گذشتہ روزون بیلٹ ون روڈ ( اوبور) منصوبہ کی پانچویں سالگرہ کا جشن منایا، اوبور منصوبہ کو عالمی حمایت حاصل ہے، سی پیک منصوبہ اوبور منصوبہ کا پرچم بردار منصوبہ ہے، یہ منصوبہ رابطے اور تعاون کی بہترین مثال ہے، اوبور منصوبہ نے نتائج دینا شروع کر دئیے ہیں،2018کے اختتام تک سی پیک کے تحت پاکستان میں 28بلین ڈالر کے منصوبے مکمل کر لئے جائیں گے، اوبور منصوبہ کے تحت گذشتہ 5سالوں میں چین کا تجارتی حجم 5تریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، چین نے 6سالوں مین ریکارڈ ترقی کے مراحل سر کئے ہیں، چین کے اس منصوبہ کے ساتھ عالمی ترقی کو فروغ دینا ممکن ہے،،چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے تحت 20سے زائد ممالک میں تجارتی و اقتصادی زون قائم کرنے سے ایک لاکھ80ہزار ملازمتیں اور1.1بلین ڈالر سے زائد ٹیکس آمدنی حاصل کی ، طاقت کی بجائے اشتراکیت کا عمل اپنایا جائے تا کہ دونوں فریقین مستفید ہوں،عالمی معیشت کی پائیدار ترقی کا ضامن منصوبہ ہے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق چین میں گذشتہ روز اوبور منصوبہ کی پانثویں سالگرہ کا جشن منایا گیا۔تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کے ویژن کے مطابق ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ترقی و تعمیر میں ڈھل رہا ہے۔ اوبور منصوبہ کو عالمی حمایت حاصل ہے۔ 60سے زائد ممالک اوبور منصوبہ پر دستخط کر چکے ہیں۔

چین نے پاکستان کے ساتھ اپریل 2015 کو46 بلین ڈالر کے معاہدے پر کام شروع کرنے کے لئے دستخط کیے۔ جو پاکستان کے کل سالانہ جی ڈی ڈی کا تقریبا 20 فی صد ہے۔ اس منصوبہ کو چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے ((سی پیک)) کا نام دیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ سی پیک منصوبہ اوبور منصوبہ کا پرچم بردار اور بنیادی منصوبہ ہے۔یہ منصوبہ رابطے اور تعاون کی بہترین مثال ہے۔

کے اختتام تک سی پیک کے تحت پاکستان میں 28بلین ڈالر کے منصوبے مکمل کر لئے جائیں گے۔وبور منصوبہ نے نتائج دینا شروع کر دئیے ہیں۔ ماہرین چین کی جامع اور شراکت داری جیسی پالیسیوں سے اتفاق کرتے ہیں اور دنیا کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔۔چین عالمی طور پر ایک اہم رول ادا کرنے کے لئے ابھر رہا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بیلٹ اور روڈ انیشی ایٹو دنیا بھر میں ممالک اور علاقوں میں تیزرفتار ترقی کر رہا ہے۔

چین نے 86ممالک کے ساتھ اس منصوبہ کے تحت 101معاہدے کئے ہیں جن پر کام جاری ہے۔ اوبور منصوبہ کے تحت گذشتہ 5سالوں میں چین کا تجارتی حجم 5تریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ چین نے 6سالوں مین ریکارڈ ترقی کے مراحل سر کئے ہیں۔ چین کے اس منصوبہ کے ساتھ عالمی ترقی کو فروغ دینا ممکن ہے۔بیجنگ یونی ورسٹی کے پروفیسر ہیو بی لینگ نے کہا کہ اس منصوبہ کے اثرات چین کے ساتھ ساتھ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ 2013میں پیش کیا گیا اس منصوبہ نے 5برسوں میں ریکارڈ ترقی کی ہے۔۔چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے تحت 20سے زائد ممالک میں تجارتی و اقتصادی زون قائم کرنے سے ایک لاکھ80ہزار ملازمتیں اور1.1بلین ڈالر سے زائد ٹیکس آمدنی حاصل کی۔چینی اکیڈمی کے چھینگ یانگ نے کہا کہ گلوبلائزیشن کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اسیے اقدامات انتہائی نا گزیر ہیں،،چین منصوبہ سے منسلک ہر ملک کو شراکت داری کے تحت ترقی کے پورے مواقع فراہم کر رہا ہے۔۔چین کا موقف ہے کہ طاقت کی بجائے اشتراکیت کا عمل اپنایا جائے تا کہ دونوں فریقین مستفید ہوں۔ چھینگ یانگ نے مزید کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ عالمی معیشت کو مضبوط وحدت اور اعتماد بخشتا ہے۔عالمی معیشت کی پائیدار ترقی کا ضامن منصوبہ ہے۔