پشاور امن چوک میں لوڈر کے کچلنے والے مرحوم اجرحسین کے یتیم بچے انصاف کیلئے لنڈ ی کو تل پریس کلب پہنچ گئے

پیر مئی 22:54

خیبرایجنسی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) رواں ماہ پشاور امن چوک میں لوڈر کے کچلنے والے مرحوم اجرحسین کے یتیم بچے انصاف کے حصول کیلئے لنڈ ی کو تل پریس کلب پہنچ گئے ۔ والد ایک ڈرائیور اور گھر کے واحد کفیل تھے ، اب ہمارا کوئی نہیں ہے، بڑے بیٹے کی فریاد ،اچھی خا صی زندگی گزر رہی تھی بی ار ٹی نے چھین لی گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہو گیا ،ہنستا بستا گھرانہ ویرانے کا منظر پیش کر رہا ہے وزیر اعلیٰ اور چیف جسٹس انصاف دلائیں اور یتیم بچوں کی مالی معاونت کے لئے اقدامات کرے۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل لنڈ ی کو تل کے علاقہ اشخیل کے رہائشی امین سید اپنے بھتیجوں کے ہمراہ لنڈ ی کو تل پریس کلب پہنچ کر میڈ یا کے نمائندوں سے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ 5مئی کو ان کا بھائی اجر حسین ولد سید حسین پشاور امن چوک گورا قبرستان میں اپنی گاڑی سی 2173کے ساتھ موجود تھے کہ بی ار ٹی کے لوڈر نے اسے ٹکر دے مارکر کچل ڈالااور موقع ہی پر جاں بحق ہو گئے ڈرایئور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے انہوں نے کہا کہ میرے بھائی قتل کے عینی گواہ ان کے ساتھ دوسرا ڈرایئور محمد خان ہے جو انہوں نے سب کچھ اپنی انکھوں سے دیکھا ہے مگر بی ار ٹی والوں نے افسوس کہنے تک گوارا نہیں کیا جو دوسرا بڑا ظلم ہے 8 سالہ تیسری جماعت کا طالب علم ان کے بڑے بیٹے روحیل نے بتایا کہ میں پڑھنا چاہتا ہوں اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی تعلیم دلوانا چاہتا ہوں چھ سالہ حنا دوسری جماعت جبکہ پانچ سالہ وسیم نرسری میں ہیں دو سالہ عظمیٰ کو بھی سکول میں داخل کرانا ہے اچھی خاصی زندگی گزر رہی تھی بی ار ٹی نے چھین لی مرحوم اجر حسین کے بھائی امین سید نے بتایا بھائی کے قتل سے ان کے بچے یتیم ہو گئے ہنستا بستا گھر انہ تھا ویران کر گیا گھر ماتم کدہ میں بدل گیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہپرویز خٹک سے اپیل کی کہ ان کے بھائی کے قاتل کو گرفتار کیا جائے اور انک یتیم بھتیجوں کی مالی معاونت کے اقدامات اٹھائے تاکہ وہ تعلیم کے زیور سے محروم نہ ہو جائے۔