سندھ اسمبلی میںمالی سال 2018-19ء کے صوبائی بجٹ پر عام بحث شروع ، حکومت اور اپوزیشن کے کئی ارکان نے حصہ لیا

پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے طویل دور اقتدار میں بھی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے ، کراچی میں پانی کی کمی ہے، شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں ،بجٹ میں عوامی بہبود کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے ہیں، جمال احمد سندھ میں ہر طرف کرپشن لوٹ مار کا بازار گرم ہے،سب سے زیادہ لوٹ مار بلدیات میں ہو رہی ہے، سندھ میں کہیں صفائی ستھرائی نہیں ہورہی لیکن جھاڑوکے نام پر پیسے خرچ کئے جارہے ہیں، سعید احمدخان نظامانی اور دیگرایوپشن ارکان کی سندھ حکومت پر شدید تنقید

پیر مئی 23:15

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) سندھ اسمبلی میںپیر کو مالی سال 2018-19ء کے صوبائی بجٹ پر عام بحث شروع ہوگئی، بحث کے پہلے روز حکومت اور اپوزیشن کے کئی ارکان نے اس میںحصہ لیا۔۔ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی جمال احمد پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے طویل دور اقتدار میں بھی عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے ،،کراچی میں پانی کی کمی ہے، شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں لیکن صوبائی بجٹ میں عوامی بہبود کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتا یا کہ میرے حلقے میں صرف چار ترقیاتی اسکیم منظور ہوئیں جن پر کام شروع نہیں ہو سکا ، سندھ کے عوام کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں اور ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں،انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے پاس یونی فارم اور بوٹ تک نہیں ہوتے۔

(جاری ہے)

جمال احمد کی تقریر طوالت اختیار کرگئی تو اسپیکر کی جانب سے انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ جلدی سے اپنی بات مکمل کریں کیونکہ آپ کآ وقت ختم ہو چکا ہے، جس پر رکن اسمبلی نے کہا کہ وقت تو اسمبلی کا بھی ختم ہو چکا ہے،آج بولنے دیں۔

اسپیکر کی جانب سے روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اب میں بولوں کہ نہ بولوں کے نعرے لاگانے شروع کردیئے۔ اس موقع پر اپوزیشن کے دوسرے ارکان نے بھی جمال احمد کا ساتھ دیا اور وہ بھی بولو بولو کے نعرے لگاتے رہے۔اپنی بجٹ تقریر کے دوران پیپلزپارٹی کی خیرالنسا مغل کراچی کو بھول گئیں ،ان کا کہنا تھا کہ پورے سندھ میں کوئی اسٹیڈیم نہیں ہے ۔

انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ میر پور خاص میں کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، خیر النسا مغل نے کہا کہ سندھ ھکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے دن و رات کام کررہی ہے۔7ہزار گائوں کو صاف ستھرا پانی فراہم کرنے کا سندھ حکومت کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی عوامی خدمات کا صوبے کے عوام اعتراف کرتے ہیں اسی وجہ سے ہمیشہ عوامی منڈیٹ پیپلز پارٹی کو ملتا ہے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے رکن سعید خان نظامانی نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ہر طرف کرپشن لوٹ مار کا بازار گرم ہے،سب سے زیادہ لوٹ مار بلدیات میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کہیں صفائی ستھرائی نہیں ہورہی لیکن جھاڑوکے نام پر پیسے خرچ کئے جارہے ہیں۔ سعید خان نظامانی نے کہا کہ جس طرح ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشن رد الفساد شروع کیا گیا تھا اسی طرح سندھ میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں آپریشن رد الکرپشن شروع کیا جائے۔

ایم کیو ایم چھوڑ کر پی ایس پی میںشمولیت کا اختیار کرنے والے رکن محمود عبدالرزاق نے کہا کہ چیئرمین پی ایس پی سید مصطفی کمال نے دن رات کراچی میں کام کیا ہے، کراچی میں آج جو بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے نظر آرہے ہیں وہ مصطفیٰ کمال کی محنت کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے پانچ سالوں میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا جس کی وجہ سے پورا صوبہ خصوصاً کراچی مسائل کی آمجگاہ بن گیا ہے۔

انہوں نے بجٹ کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے کہا کہ سندھ حکومت نے غیر ترقیاتی بجٹ کو بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ127 ارب روپے ترقیات پر لگانے کے بجائے کہیں اور انویسٹ کر دیئے گئے۔محمود عبدالرزاق کی بجٹ تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ایوان میں موجود نہیں تھے جس پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ایوان میں ہوے تو میری گذارشات سنتے۔

جس پراسپیکر آغاسراج درانی نے کہا کہ آپکی تقریر کے تمام نکات نوٹ ہورہے ہیں وزیر اعلی تک پہنچ جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف حکومت نے ملک کی صورتحال تباہ کردی، پوراملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، مصطفی کمال کو میئرشپ کے دوران تین سو ارب روپے ملے،تین چار فلائی اوور بناکر وہ ترقی کا دعوی کرتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مصطفی کمال نے سارا ترقیاتی بجٹ دہشت گردی پر خرچ کیا،سانحہ بارہ مئی میں ترقیاتی بجٹ دہشت گردی پر خرچ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ کراچی چالیس سال تک نوگوایریا بنارہا ہے ۔لیاقت آباد میں آج بھی مسائل کے انبار ہیں۔غزالہ سیال کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف نے خود تو کرپشن کی ،ان کے بچوں نے بھی مہا کرپشن کرکے پورا ملک لوٹ لیا نوازشریف نے دوسروں کے لیے گڑھے کھودے لیکن آج وہ ان میںخود گررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نوازشریف نے خود بنائی اب نیب کو براکہہ رہاہے ،،نوازشریف مغل اعظم بنے ہوئے ہیں۔۔ایم کیو ایم کے سکھر سے منحرف رکن سلیم بندھانی نے اپنی بجٹ تقریر میں مصطفیٰ کمال پر کی جانے والی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مصطفی کمال کے کاموں کو آج پورا کراچی سراہتاہے ۔انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال کا کام تو سب کے سامنے ہے ،آپ پورے سندھ میں کوئی ایک ماڈل یوسی بتادیں،دس سال حکومت میں رہنے کے باوجود کارکردگی کچھ بھی نہیں ہے،نوابشاہ تھر میرپورخاص کی حالت دیکھ لیں،سکھر کے عوام پینے کے پانی سے محروم ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ترقی کے دعوے کررہی ہے۔

بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا،ایوان میں نئے مالی سال کے بجٹ پر دوسرے روز بھی بحث جاری رہے گی۔