سپریم کورٹ نے افتخار محمد چوہدری کے ساتھ پولیس افسران کی بدسلوکی کے حوالے سے کیس کی سماعت (کل) تک ملتوی کردی

پیر مئی 23:19

سپریم کورٹ نے افتخار محمد چوہدری کے ساتھ پولیس افسران کی بدسلوکی کے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ پولیس افسران کی جانب سے بدسلوکی کے حوالے سے کیس کی سماعت (کل) منگل کی صبح تک ملتوی کردی ہے اورکہا ہے کہ عدالت اس معاملے کومیرٹ پرحل کرے گی، بدسلوکی سابق چیف جسٹس آف پاکستان سے کی گئی ہے کیا یہ اقدام معافی کے قابل ہے، ہمیں بتایا جائے کہ ایک چیف جسٹس کے ساتھ کس قانون کے تحت بدسلوکی گئی ہے ،پیرکوقائم مقام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس جسٹس مشیرعالم اور جسٹس عمرعطابندلال پرمشتمل پانچ رکنی لاجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پربنچ کے سربراہ نے استفسارکیا کیا تمام ملزمان عدالت میں موجود ہیں، ہم نے عبوری حکم نامے کا جائزہ لے لیا ہے اب ہم اس معاملے کو میرٹ پر حل کریں گے۔

(جاری ہے)

سماعت کے دورا ن ملزم انسپکٹر رخسار کے وکیل خالد رانجھا نے پیش ہوکر عدالت کو کیس کے حوالے سے بتایا کہ کیس کسی بھی نوعیت کا ہو اس میں معافی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے ، جسٹس گلزار نے ان سے کہاکہ یہ کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان سے بدسلوکی کا واقعہ ہے اس لئے دیکھنایہ ہے کہ کیا یہ واقعہ کسی طرح سے قابل معافی ہے، عدالت کوبتایا جائے کہ کس قانون کے تحت جج کے ساتھ بدسلوکی ہوئی ہے‘عدالت ایسے واقعات کی اجازت نہیں دے سکتی۔

عدالت کوایک فریق کے وکیل سردار اسلم نے کہاکہ اس معاملے میں ابھی تک ٹرائل نہیں ہوا جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے ان سے کہاکہ اگر آپ کیس لڑنا چاہتے ہیں تو غیر مشروط معافی نامہ واپس لے لیں، فاضل جج نے مزید کہا کہ دونوں پولیس افسران نے غلطی تسلیم کرلی ہے اب 11 سال کے بعد انہیں مزید صفائی کا موقعہ نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تھے، جب ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے یہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کی عزت کویقینی بنائے لیکن انہوں نے ایک معزز ترین آدمی کے ساتھ بدسلوکی کی، جسٹس گلزار احمد نے فاضل وکیل سے کہاکہ بدسلوکی کایہ واقعہ سوچ سمجھ کر دانستہ طور پر کیا گیا۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ جو چیز ریکارڈ پر ہے وہ رہے گی اسے مٹایانہیں جاسکتا۔ بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت ملتوی کردی