ترقیاتی منصوبوں پر یوسی چیئرمین کی منظوری کے بغیر عملدرآمد نہ کیا جائے،ممبران سٹی کونسل کراچی

کہ ترقیاتی فنڈز کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام یا ڈپٹی کمشنرز کو دینے کے بجائے عوام کے ووٹ سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کئے جائیں،اجلاس میں حکومت سے مطالبہ

پیر مئی 23:25

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) سٹی کونسل کراچی کے ایوان نے متفقہ طور پرحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام یا ڈپٹی کمشنرز کو دینے کے بجائے عوام کے ووٹ سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کئے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں پر یوسی چیئرمین کی منظوری کے بغیر عملدرآمد نہ کیا جائے، ترقیاتی اسکیموں پر انتخابات کے بعد عملدرآمد کیا جائے تاکہ انتخابات شفاف ہوسکیں، کونسل نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ماتحت محکمہ جات کو حکومتی تحویل میں لینے کے اقدامات سے گریزکا مطالبہ کرنے کے علاوہ ایک قرارداد کے ذریعے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے خلاف ان کے حالیہ ملک دشمن بیان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا جبکہ کمشنر کراچی کی طرف سے صحافیوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی بھی سٹی کونسل نے بھرپور مذمت کی، سٹی کونسل کراچی کا اجلاس پیر کی دوپہرمیئر کراچی وسیم اختر کی صدارت میں کے ایم سی بلڈنگ میں منعقد ہوا، اجلاس میں مجموعی طور پر 13 قراردادیں پیش کی گئیں جن میں سے 2 قراردادوں کو کثرت رائے اور 11 قراردادوں کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا جبکہ ایک قرارداد کو مزید غور و خوص کے لئے فنانس کمیٹی کے سپرد کردیا گیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان نے بھی واضح ہدایات جاری کی تھیں مگر کے الیکٹرک نے وزیراعظم کی ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا انہوں نے کہا کہ میں اس فورم پر کے الیکٹرک اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے مطالبہ کروں گا کہ وہ کم از کم رمضان ہی میں شہریوں کو پانی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ سے نجات دے کر سہولت اور سکون فراہم کرے پورے سال کراچی کے شہریوں کو پانی کی تقسیم منصفانہ انداز میں کی جائے اور لوڈشیڈنگ کا بھی خاتمہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ رمضان کے مہینے کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے ایسے وال مینز کو اپنے کاموں میں لگائیں جو ایماندار ہوں اور جن کے دل میں انسانیت کے دل میں محبت اور درد ہو، انہوں نے کہا کہ ہم بجلی اور واٹر بورڈ کے ہاتھوں مجبور ہوچکے ہیں اگر واٹر بورڈ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مل جاتا تو یقینا ہم مل کر بہتر انداز میں شہریوں کو سہولت فراہم کرسکتے تھے،شدید گرمی میں کے الیکٹرک نے کراچی کی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں، کراچی کی عوام کو کے الیکٹرک سے 200 ارب روپے واپس دلائے جائیں اور کے الیکٹرک کی پرائیویٹائزیشن کو ختم کرکے اسے دوبارہ قومی ادارے کی تحویل میں دیا جائے اور کے الیکٹرک کو پابند کیا جائے کہ فرنش آئل کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنا کر لوڈشیڈنگ کو ختم کیا جائے،انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی ہر فورم پر عزت ہے اور ہمیں کبھی بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ جس سے کسی کی عزت نفس مجروح ہو انہوں نے کہا کہ کسی کی اپنی پسند یا ناپسند تو ہوسکتی ہے مگر ہتک آمیز رویہ کسی طرح بھی اختیار نہیں کیا جاسکتا، ایوان میں پیش کی گئیں دیگر قراردادوں کے ذریعے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں قائم ٹیلیفون آپریٹر اور ٹیلیفون ٹیکنیشن کی آسامیوں کی اپ گریڈیشن، ٹھیکہ برائے ذبیحہ فیس کی وصولی برائے سال 2017-2018 ء کی منظوری کے علاوہ کراچی چڑیا گھر ، کراچی سفاری پارک اور لانڈھی کورنگی چڑیا گھر، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں فیسوں کی شرح میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس کے دوران صحافیوں نے کمشنر کراچی کے ناروا سلوک پر اظہار ناراضگی کیا جس پر اراکین کونسل نے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کمشنر کراچی کو ان کے عہدے سے معطل کرے، اجلاس کی کارروائی کے دوران مختلف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے اظہار خیال کیا جن میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی، جماعت اسلامی کے جنید مکاتی، پیپلزپارٹی کے اپوزیشن لیڈر کرم اللہ وقاصی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امان خان آفریدی، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر عالم زیب الائی،سٹی کونسل کی مختلف کمیٹیوں کے چیئرمینز اور چیئرپرسنز کے علاوہ آصف صدیقی، تاج الدین صدیقی،فاطمہ صدیقی، زاہد محمود، ندیم آرائیں، میر عبدالصمد بروہی ،حسن نقوی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

قبل ازیں اجلاس میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی توثیق کی گئی ، اجلاس میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ارکان نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ کے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کی کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، کراچی کو 3 ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے مگر جب کے الیکٹر ک کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فرنش آئل کی ذریعے بجلی پیدا کرے تو وہ اس کام پر تیار نہیں ہوتی کیونکہ اس طرح کے الیکٹرک کے منافع میں کمی واقع ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کا فنڈ ڈپٹی کمشنرز کو کیوں دیا گیا جبکہ منتخب بلدیاتی نمائندے موجود ہیں، واٹر بورڈ پانی کی منصفانہ تقسیم کرے، شاہ فیصل کالونی اور ملیر کے لوگوں کو بھی پانی مہیا کیا جائے، رمضان کی آمد ہے مگر شہری پانی سے محروم ہیں ،ایم ڈی واٹر بورڈ سے اراکین کونسل کی فوری میٹنگ کرائی جائے، سٹی کونسل میں قائد حزب اقتدار اسلم آفریدی نے کہا کہ یوسیز کو پانچ لاکھ روپے فراہم کی جانے والی رقم اچھی تجویز ہے اسے مزید ضروری کارروائی کے لئے محکمہ فنانس کو ارسال کردیا جائے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں میئر کراچی وسیم اختر نے کوششیں کرکے کے ایم سی کو پہلے سے بہتر انداز میں شکل دی ہے اور اسے پھر سے زندہ کیا ہے، صبحین غوری نے کہا کہ وہ بحیثیت چیئرپرسن میڈیا کمیٹی بلدیہ عظمیٰ کراچی صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کمشنر کراچی کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بھرپور مذمت کرتی ہیں، میئر کراچی وسیم اختر نے اپوزیشن لیڈر کی ایک بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہر کا ماسٹر پلان سندھ حکومت کے پاس منظوری کے لئے موجود ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس نہیں، صاحب خان جسکانی نے کہا کہ حکومت سندھ نے بجٹ میں یوسی کے لئے رکھی گئی 2 لاکھ کی رقم کو 5 لاکھ روپے کردیا ہے جس سے کم از کم یوسی کے کئی مسائل حل ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ جس طرح سندھ گورنمنٹ نے پانچ لاکھ روپے رکھے ہیں اسی طرح بلدیہ عظمیٰ کراچی بھی اپنے بجٹ میں یوسی کے لئے 5 لاکھ روپے رکھے اور ہر یوسیز کے لئے ایک ایک کروڑ مختص کرکے باغات بنائے جائیں، فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ محکمہ فنانس میں بھیجنے کا معاملہ مناسب نہیں ہوگا بلکہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے پاس اس کا اختیار ہونا چاہئے کیونکہ اگر رقم پروسیجر کے تحت منظور کرائی گئی تو اس بات کا خدشہ ہے کہ پیسہ رشوت کی نذرہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ لوکل باڈیز کے تحت جو کام ہو رہے ہیں ان کا فنڈ کسی بھی طرح ڈپٹی کمشنر کو نہیں دیا جانا چاہئے اور اگر ڈپٹی کمشنرز کو فنڈز دیا جانا ضروری بھی ہے تو اس پر منظوری کے لئے چیئرمین ، یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین کے دستخط ہونا چاہئیں، میئر کراچی وسیم اختر نے فوری طور پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکائونٹس رولز ہیں جس کے تحت کونسل کی منظوری کی ضرورت پیش آتی ہے ،اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ایسی شکایات آرہی ہیں کہ کسی معاملے کو پروسیجر میں کرنے کے لئے رقم رشوت کی نذر ہوتی ہے مگر ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہونا چاہئے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کون ٹھیکیدار یا انجینئر کرپشن کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے ڈکیتیاں تو روک لی ہیںتاہم کونسل کے ارکان گرائونڈ پر موجود ہیں اس بات کو چیک کریں کہ کون ان سے رشوت مانگ رہا ہے،پانچ لاکھ روپے یوسیز کو دینے کے حوالے سے قرارداد کی مکمل حمایت کرتے ہیں جس پر میئر کراچی وسیم اختر نے مذکورہ قرارداد کو کمیٹی کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ جو تجاویز آئیں گی اس پر اسی طرح عمل کیا جائے گا، پارکس کمیٹی کے چیئرمین خرم فرحان نے کہا کہ ہر ڈسٹرکٹ میں چار پارک شامل کئے گئے ہیں جو اگلے سال سے بنتے ہوئے نظر آئیں گے۔

#