ایبٹ آباد یو نیورسٹی آف سا ئنس اینڈ ٹیکنا لو جی میں پہلی خیبر پختو نخوا وا ئس چا نسلرز کا نفرنس

پیر مئی 23:26

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) خیبر پختو نخوا کے وزیر ہائر ایجوکیشن مشتا ق احمد غنی نے کہاہے کہ میں اس کانفرنس کو انتہائی معلوماتی اور اہم قرار دیتا ہو ں کیو نکہ اس کانفرنس سے بی ایس پروگرام کی کامیابی کے حوالے سے متعدد تجاویز سامنے آئی ہیں جن پر عملدرآمدکیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ یونیوسٹیاں صرف ہر سال امتحانات لینے پرچے بنانے اور نتائج تیار کرنے کیلئے نہیں ہیں بلکہ یونیوسٹیوں کی ذمہ داری تحقیقی سرگرمیوں کا فروغ ہے ،لیکن یہاں ہماری یونیورسٹیز میں تحقیقی کام نہ ہونے کے برابر تھا، ان خیا لا ت کا اظہار انہو ں نے پیر کے روز ایبٹ آباد یو نیورسٹی آف سا ئنس اینڈ ٹیکنا لو جی میں پہلی خیبر پختو نخوا وا ئس چا نسلرز کا نفرنس کے موقع پر مہما ن خصو صی کی حیثیت سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔

(جاری ہے)

ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں صوبہ خیبرپختونخواہ کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کی کانفرنس کا انعقاد ایبٹ آباد یو نیورسٹی آف سا ئنس اینڈ ٹیکنا لو جی نے کیا کانفرنس کا عنوان -"integrating public sector colleges with universities in bs 4 year program"تھا ۔ایک روزہ کا نفرس میں صو بہ بھر کی یو نیو رسٹیو ں کے وا ئس چا نسلرز نے شر کت کی اور اپنی اپنی تجا ویز دی ۔

صو با ئی وزیر ہا ئیر ایجو کیشن مشتا ق احمد غنی نے کہا صوبائی حکومت کی شروع سے ہی کوشش رہی ہے کہ یونیورسٹیوں میں تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو ،اس مقصد کیلئے ہم نے پانچ سو ملین روپے مختص کئے اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ متعدد یونیورسٹیز کی جانب سے پراجیکٹس بھی سامنے آئے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے ہم سنجیدہ اقداما ت اٹھا رہے ہیں ، اس مقصد کیلئے ہم نے متعدد ممالک کے دورے کئے اورمتعدد ایم او یوز بھی سائن کئے ہیں تاکہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور یونیورسٹیز میں تحقیقی کاموں کے حوالے سے ان ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکے ، ہم نے اپنے صوبہ کی یونیورسٹیز کو دنیا کی بہترین یونیورسٹیز بنانے کا اعادہ کیاتھا، امشتا ق احمد غنی نے کہا کہ ہمیں اپنا سکالرز کے تحقیقی کام سے فائدہ اٹھانے کیلئے یونیورسٹیز میں تحقیقی ماحول کو پروگرام چڑھانا ہوگا،اس موقع پر انہوں نے کانفرنس کو انتہائی مفید قرار دیا اور پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کو کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دی ۔

کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے کالجز میں بی ایس پروگرام کو شروع کرنے کے اقدامات کو سہراتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اسے متوسط طبقہ کیلئے مزید آسان اور سستا بنانے کی جانب ایک بہترین قدم ہے لیکن کالجز پروگرام کی کامیابی کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن کیا کالجز کے پاس اس پروگرام کوچلانے کیلئے وسائل ہیں کیا کالجز کے پاس مطلوبہ معیار کے مطابق اساتذہ اور دیگر لوازامات ہیں، پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ بلا شبہ صوبائی حکومت نے اس پروگرام کو کالجز میںشروع کرنے کے حوالے سے ایک خطیر رقم بھی مختص کر رکھی ہے لیکن اسکے باوجود اسکی کامیابی کے سلسلہ میں کچھ شبہات پائے جاتے ہیں جہنیں دور کرنا انتہائی ضروری ہے ،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے اس پروگرام کی کامیابی کیلئے ہمیں آگے آنا ہوگا اور اسکی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے کیلئے تجاویز دینا ہوگی ، جبکہ اسے عوام کیلئے مزید آسان بنانے کیلئے بھی ٹھوس قانون سازی کرنا ہوگی تاکہ صوبہ کے عوام اس سے بھرپور طریقہ سے استفادہ حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہاکہ ایبٹ آباد یونیورسٹی نے اس حوالے سے امریکہ کے نظام تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک روڈ میپ ترتیب دیدیا ہے جس کے مطابق کالج میں بی ایس پروگرام میں داخلہ لینے والے طلباء وطالبات دو سال اپنے متعلقہ کالج اور اگلے دو سال تک یونیورسٹی میں پڑھیں گے کانفرنس میں شریک وائس چانسلر زنے اس تجویز کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روڈ میپ کے ذریعے بی ایس پروگرام کی کامیابی کے امکانات مزید بڑھ جائینگے بی ایس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے مختلف تجاویز بھی دیں ۔