سپریم کورٹ نے سیالکوٹ پولیس کی جانب سے بازیاب کرائے جانے والی50 بھٹہ مزدوروں کو آزاد کرنے کا حکم جاری کردیا

پیر مئی 23:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) سپریم کورٹ نے سیالکوٹ پولیس کی جانب سے بازیاب کرائے جانے والی50 بھٹہ مزدوروں کو آزاد کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ بھٹہ مزدوروں کوان کے سامان کی واپسی یقینی بنائی جائے۔ پیرکو جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرسیالکوٹ پولیس کی جانب سی50 بھٹہ مزدور عدالت میں پیش کئے گئے توعدالت کی ہدایت پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھٹہ مزدورں سے استفسار کیا کہ ا ن پر پولیس یابھٹہ مالکان کی جانب سے کسی قسم کا دباؤ تو نہیں تو مزدوروں کے موقف میں اختلاف نظر آیا، ایک مزدور نے کہا کہ اس پر کسی قسم کا دبائو نہیں جبکہ دوسرے نے انکشاف کیا کہ ہمیں دبائو میں رکھا گیا ہم سے رات ایک فارم پر دستخط لئے گئے ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ دستخط کس لئے لئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

جسٹس عمر عطابندیال نے بھٹہ مزدوروں سے استفسار کیا کہ آپ بھٹہ پراپنی مرضی سے کام کرنا چاہتے ہیں،،عدالت کوبتایا جائے کہ آپ لوگوں کو کمرے میں بند رکھا گیا تھا یا آپ اپنی مرضی سے بھٹہ پرکام کر رہے ہیں جس پر ایک بھٹہ مزدور نے بتایا کہ ہمیں پیسوں کی ضمانت کے عوض رکھا گیا ہے، ہمیں پیسوں کے معاملے کی وجہ سے پریشان کیا جاتا ہے، ہمیں دس لاکھ ضمانت کے عوض رکھا گیا ہے۔

سماعت کے دورا ن ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق مرزا نے کہا کہ بیرون ملک اینٹیں بنانے کے لیے مشینوں کو استعمال کیا جاتا ہے میری خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی اینٹیں بنانے کے لیے مشینوں کو استعمال کیاجانا چاہئے۔جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشینوں کے استعمال کے بعد یہ مزدور کدھر جائیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے ہدایت کی کہ پیسوں کے لین دین کے معاملے کیلئے بے شک فریقین سول کورٹ سے رجوع کر لیں اور پولیس حکام بھٹہ مزدوروں کو ان کے سامان کی واپسی کو یقینی بنائیں، بھٹہ مزدور اپنی نقل و حرکت میں آزاد ہیں، وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔