قبائلی عمائدین ونمائندوں کے مطالبات متعلقہ فورم پرپیش کئے جائینگے، وزیراعلیٰ پرویزخٹک

پیر مئی 23:30

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے قبائلی عمائدین اور نمائندوں کو یقین دلایا ہے کہ اُن کی طرف سے پیش کئے گئے مطالبات کا اُن کی خواہشات کے مطابق حل کیلئے متعلقہ فورم پر پیش کیا جائے گا۔ ہم قبائلی عمائدین، نمائندوں اور پوری پشتون قوم کے مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور ہماری کوشش ہو گی کہ ان مسائل کا جلد ازجلد حل تلاش کیا جائے ۔

وزیراعلیٰ نے انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔آج 14 مئی 2018 کو قبائلی عمائدین اور عوامی نمائندگان پر مشتمل جرگہ نے بمقام گورنرہائوس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا،، اے سی ایس ((فاٹا))، کمشنر پشاور اور دیگر سرکاری افسران شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر جرگہ ممبرز نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ قبائل اور پختونوں کے مسائل کا حل صرف اور صرف جرگے کے ذریعے سے ہی ممکن ہے قبائلی عمائدین اور منتخب نمائندگان نے فاٹا کے حالات کو بہتر کرنے کے سلسلے میں قبائلیوں ، پاک فوج،، ایف سی ، سول انتظامیہ اور لیویز/ خاصہ دار کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیااور اس بات کا عزم دہرایا کہ پختون اور خصوصاً قبائل کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میں حاصل امن کو دشمن کے مذموم ارادوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔

اس موقع پر فاٹا پارلیمنٹرینز نے بھی اسی عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ پختون قبائل نے ان گنت مصیبتوں کا سامنا کیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ تمام پختونوں بشمول نوجوانوں کے جائز مطالبات کو سنا جائے اور قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کا حل نکالا جائے۔ وزیراعلیٰ اور گورنر خیبرپختونخوا نے جرگے کی ان تھک کوششوں کو سراہا اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

یہاں اس بات کا اعادہ کیا کہ حاضر جرگہ ہی پختون عوام کا نمائندہ جرگہ ہے جو کہ مکمل طور پر با اختیار ہے۔ جرگہ قبائل کو درپیش تمام مصائب و مسائل کا جائزہ لے گا اور تمام قبائلی عوام بشمول نوجوانان و پی ٹی ایم کے نمائندگان سے مشورہ کرکے ، مناسب تجاویز سے حکومت کو آگاہ کرے گا۔ حکومت آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے تمام مسائل کو ان تجاویز کی روشنی میں حل کرنے کا یقین دلاتی ہے۔