صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پنجاب اسمبلی میں ضمنی بجٹ برائے مالی سال 2017-18ء ، نظرثانی تخمینہ جات پیش کر دئیے

حکومت نے سابقہ ادوار کی طرح عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے شاندار سفر کو جاری رکھا، 2018ء کے الیکشن میں عوام ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی قیادت پراعتماد کا اظہار کریں گے،وزیر خزانہ کا اسمبلی میں اظہار خیال

پیر مئی 23:30

لاہور۔14 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے پنجاب اسمبلی میں ضمنی بجٹ برائے مالی سال 2017-18ء اور نظرثانی تخمینہ جات پیش کر دئیے،اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت نے سابقہ ادوار کی طرح عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے شاندار سفر کو جاری رکھا ہے، یقین ہے کہ ترقی کا یہ سفر آئندہ بھی جاری ہے گا اور 2018ء کے الیکشن میں بھی عوام ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اپنے اعتماد کا اظہار کریں گے،انہوں نے کہا کہ خادم اعلیٰ کی قیادت میں پنجاب ہر لحاظ سے 2008ء کے پنجاب سے بہتر اور ترقی یافتہ ہے،پچھلے دس برسوں کے دوران عوام کا حکومت پر اعتماد نہ صرف بحال ہوا بلکہ اچھی حکمرانی اور موثر سروس ڈیلیوری کی وجہ سے نئی بلندیوں سے ہمکنار ہوا،متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں نے حکومت پنجاب کی ساکھ کے حوالے سے گواہی دی جو اچھی حکمرانی اور مستعد قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے، دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پنجاب کی کارکردگی 2008ء سے لے کر ہر گزرتے سال کے ساتھ خوب سے خوب تر ہوتی رہی،،تعلیم ،ْ صحت ،ْ زراعت ،ْ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ ،ْ سماجی تحفظ ،ْ انفراسٹرکچر ،ْ دیہات کی حالت میں بہتری اور اچھی حکمرانی کے حوالے سے بین الاقوامی جرائد ،ْ عالمی شہرت کے حامل کنسلٹنٹس اور اداروں نے پنجاب کو مثالی صوبہ قرار دیا،صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہر شعبے کو یکساں ترقی پہنچانے کے لئے فقیدالمثال منصوبوں کا آغاز کیا جس سے طول و عرض میں بسنے والے عوام یکساں مفید ہوئے۔

(جاری ہے)

چھوٹے شہروں اور دیہات کو ترقی کے سفر میں برابر شریک رکھا گیا اور ان علاقوں کی ترقی کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں جو کہ تعلیم ،ْ صحت ،ْ صاف پانی کی فراہمی ،ْ سیوریج کے نظام اور انفراسٹرکچر کی بحالی جیسے منصوبوں پر خرچ ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ہر سطح پر میرٹ ،ْ انصاف اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا۔

حکومت کا بنیادی فوکس عام شہریوں کے معیاری خدمات کی فراہمی ،ْمساوات اور شفافیت پر رہا۔ سکولو ں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، سہولیات کی کمی کو پورا کیا گیا، صحت کے حوالے سے بیشمار ہسپتال بنائے گئے، وبائی بیماریوں کے تدارک کے لئے مہمات مسلسل جاری رہیں، جگر ،ْ گردے اور دیگر موذی امراض کے علاج کے لئے متعدد سہولیات کا قیام عمل میں لایا گیا،مقامی حکومتوں کے قیام سے فیصلہ سازی ،ْ اختیارات دہی کا عمل نچلی سطح پر منتقل ہوا،،پنجاب کو ڈیجیٹلائز کرنے پرخاص توجہ دی گئی اور اس حوالے سے 200 سے زیادہ منصوبے شروع کئے گئے‘ صوبائی اسمبلی میں قانون سازی پر خصوصی توجہ دی گئی‘ نظام انصاف کو بہتر کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے جس میں ماڈل کورٹس‘ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں اور انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ادارے کی مضبوطی شامل ہے‘ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عوام کو معیاری غذا اور دوائوں کی فراہمی کیلئے بھرپور طریقے سے کام کیا‘ پنجاب نے اپنے شہروں کی ترقی کے ساتھ دوسرے صوبوں کی ترقی میں بھی حصہ ڈالا اور وہاں یہ تعلیم اور مالی معاونت فراہم کی جو ان صوبوں‘ علاقوں پر احسان نہیں بلکہ بڑے بھائی کی حیثیت سے پنجاب کا فرض بنتا ہے‘ انہوں نے کہا کہ سوات میں قائم نواز شریف کڈنی ہسپتال مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کا پختون عوام کیلئے ایک تحفہ ہے‘ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی وسائل میں اضافے کے بغیر ممکن نہیں‘ حکومت نے صوبائی محاصل کی وصولی میں بہتری لاے کیلئے سخت محنت کی ہے‘ اس سلسلے میں بورڈ آف ریونیو‘ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور پنجاب ریونیو اتھارٹی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے بہت سی نئی حکمت عملی متعارف کی گئی ہیں جن کی مدد سے صوبائی محاصل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 2008ء سے لیکر اب تک ٹیکس وصولی میں 345 فیصد اضافہ کیا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے اور یہ وسائل صوبے کے عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی میں استعمال کئے جارہے ہیں‘ اگرچہ ہماری حکومت کے پاس آئینی طور پر یہ اختیار موجود تھا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ اس ایوان کے سامنے پیش کیا جاتا‘ آئین پاکستان کا آرٹیکل 125 اس ایوان کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اخراجات کی منظوری دے دی جاتی‘ جیسا کہ کچھ صوبائی حکومتوں نے کیا اور اپنے شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں کا بوجھ آنے والی حکومتوں کے کاندھوں پر ڈال دیا جاتالیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اس اختیار کو بھی استعمال نہیں کیا اور آنے والی حکومت کو صوبائی خزانے کی مکمل آزادی اور سیاسی ترجیحات کے مطابق مختص اور استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا ۔