بجٹ میں ہمارے صوبے بالخصوص پشتون علاقوں کیلئے کسی میگا پروجیکٹ کا ذکر نہیں ہے ، محترمہ نسیمہ حفیظ پانیزئی

ہمارا صوبہ خشک سالی سے دوچار ہے ،عوام کا واحد ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے،ہنگامی بنیادوں پر زیر تعمیر ڈیمز کیلئے فنڈز کی اجراء اور نئے ڈیمز کیلئے فنڈز مختص کیئے جائیں،قومی اسمبلی میں بحث

پیر مئی 23:38

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پشتونخواملی عوامی پارٹی کی رکن قومی اسمبلی محترمہ نسیمہ حفیظ پانیزئی نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19کے بجٹ پر عام بحث کے دوران اظہار خیال کر تے ہوئے کہاکہ اس بجٹ میں ہمارے صوبے بالخصوص پشتون علاقوں کیلئے کسی میگا پروجیکٹ کا ذکر نہیں ہے ، ہمارا صوبہ خشک سالی سے دوچار ہے یہاں کے عوام کا واحد ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر زیر تعمیر ڈیمز کیلئے فنڈز کی اجراء اور نئے ڈیمز کیلئے فنڈز مختص کیئے جائیں تاکہ ایک جانب عوام کا ذریعہ معاش بچ سکیں اور دوسری جانب لوگوں کے نقل مکانی کے امکانات ختم ہو ۔

اسی طرح ژوب ،لورالائی ،قلعہ سیف اللہ ، موسیٰ خیل ،پشین اور چمن کیلئے کوئی بھی منصوبہ نہیں رکھا گیا اور نہ ہی سولر سسٹم کیلئے کوئی منصوبہ شامل ہے جبکہ سماولنگ اور دکی کیلئے پہلے سے بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے اور اس کیلئے فنڈز مختص کیئے جائیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس ملک کیلئے جتنے قرضے لیئے گئے ہیں اس میں ہماری رضا مندی شامل نہیں ہے ان قرضوں کا زیادہ حصہ دفاعی بجٹ کیلئے مختص کیا گیاہے ہم دفاع سے غافل نہیں رہ سکتے لیکن اس کو بھی مد نظر رکھا جائیں کہ تعلیم اور سائنسی علوم وجدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی قومیں دنیا کی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ نے اس فلور پر ہمیشہ اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سی پیک میں ہمارے مغربی روٹ کا کوئی حصہ نہیں ہے یہ ہمارے عوام کے ساتھ ذیادتی کے مترادف ہے اور ملکی یکجہتی کیلئے نیک شگون نہیں ۔ اسی طرح ریلوے کے کوئٹہ ژوب ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کو نظر انداز کیا گیا ہے حالانکہ مغربی روٹ گوادر کو خیبر پشتونخوا ، پنجاب اور افغانستان سے ملانے کا مختصر ترین روٹ ہے اس کیلئے خصوصی فنڈز رکھے جائیں اور ژوب کوئٹہ شاہراہ کیلئے صرف 50کروڑرکھنا زیادتی ہے ہمارے صوبے کے شاہراہوں کی تعمیر کیلئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ لازمی ہے اس کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شہر کیلئے باقی صوبوں کی طرح میٹروبس منصوبہ دیا جائے ، صوبے کے پشتون علاقوں کو افغانستان کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کیلئے مختلف پوائنٹس پر گیٹ وے کی تعمیر کیلئے فنڈز مختص کیئے جائیں ، وفاقی بجٹ میں ہمارے صوبے کے پشتون علاقوں خصوصاً کوئٹہ میں پینے کے صاف پانی اور دیگر ترقیاتی بجٹ کیلئے خصوصی گرانٹ کا اعلان فوراً کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اہم قرار داد جو کہ سینٹ سے 20اکتوبر 2017کو پاس ہوئی ہے اس قرار کے مطابق قدرتی گیس کی گھریلو استعمال کیلئے ٹیرف سلیب کو Reviseکیا جائے اور اس بجٹ میں فنڈز مختص کیئے جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں چمن ، کاریزات ، خانوزئی ، برشور ، توبہ کاکڑی ، مسلم باغ ،قلعہ سیف اللہ کو کوئٹہ سے منسلک کرکے گیس پائپ لائن دی جائے۔ اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت ضلع پشین کے لئے منظور شدہ میڈکل کالج کو بمقام خانوزئی قائم کرنے کیلئے فنڈز رکھے جائیں ، اسی طرح ژوب ، موسیٰ خیل ، لورالائی ، زیارت ، پشین ، چمن میں خواتین کیلئے خصوصی تربیتی مراکز قائم کی جائے اور انہی شہروں میں کھیلوں کے میدانوں کیلئے خصوصی اقدامات کیئے جائیں۔

جبکہ وفاقی پی ایس ڈی میں چمن شہر میں یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے فنڈز کا فوری طور پر اجراء کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ جناب اسپیکر صاحب میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہو ں کہ آپ جناب نے اس ہائوس کو خوش اسلوبی وانصاف کے ساتھ چلایا مگر افسوس کہ پچھلے پانچ سالہ میںآپ اور اس پارلیمنٹ نے خواتین اراکین اسمبلی کیلئے کسی بھی بجٹ میں فنڈز مختص نہیں کیئے اور نہ ہی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ۔