پاکستان اور چین کے درمیان مٹیاری تا لاہور 878کلومیٹر 600کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن کے معاہدے طے پا گئے

پیر مئی 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) پاور ڈویژن آف پاکستان اور چین کی سٹیٹ گرڈ کارپوریشن کے درمیان مٹیاری تا لاہور 878کلومیٹر 600کے وی ایچ وی ڈی سی بائی پول ٹرانسمیشن لائن کے معاہدے طے پا گئے ۔۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں موجود تھے جو پیر کو وزیراعظم ہاہوس میں ہوئی ۔یہ معاہدے چین پاکستان اقتصادی راہدی کا حصہ ہیں جن کے تحت مٹیاری اور لاہور میں دو کنورٹر سٹیشنز ہمراہ اے سی سوئچنگ سٹیشنز ‘مٹیاری اور لاہور میں دو ‘دو الیکٹروڈ سٹیشنز اور لائن کے روٹ کے ساتھ تین رپیٹر سٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے ۔

(جاری ہے)

طے پاجانے والے معاہدے کے حوالے سے بتایا گیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اجراء کے ساتھ انرجی پورٹ فولیو‘نئے پاور پلانٹس بشمول تھر پورٹ قاسم نیوکلیئر اورحب سے بجلی کی حصول کی منصوبہ بندی این ٹی ڈی سی کے لئے ایک چیلنج بن گیا تھا لہذا ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن سی پیک کے تحت پلان کی گئی جس کے لئے این ٹی ڈی سی اور سٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنہ کے درمیان 2015میں معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں ‘یہ فلیگ شپ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے اور حکومت پاکستان ٹرانسمیشن پالیسی 2015کے تحت بنائو ‘چلائو اور حوالے کرو کی بنیاد پر 25 سال کے لئے اس پر عمل درآمد کیا جارہا ہے ‘ منصوبے پر عمل درآمد کی مدت 27ماہ ہے اور کمرشل آپریشن کی تاریخ یکم مارچ 2021مقرر کی گئی ہے ‘پراجیکٹ عمل درآمدی معاہدہ پر ایم ڈی پی بی آئی بی اور چیئرمین سٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنہ شو جن بیاو نے دستخط کیے جبکہ ٹرانسمیشن سروس معاہدے ‘لینڈ لیز معاہدے ‘او اینڈ ایم سمجھوتے پر بھی شو جن بیائو نے چین کی طرف سے دستخط کیے جبکہ ایم ڈی این ڈی ٹی سی نے پاور ڈویژن کی طرف سے دستخط کیے۔