حکومت نے علمائے کرام اور اقلیتی برادری کیلئے ماہانہ اعزازیے کیلئے وسائل پہلے ہی جاری کردیئے،پرویزخٹک

اعزازیے کی رقم وضع کئے گئے طریقہ کار کے مطابق شفاف انداز میں علماء اور اقلیتی برادری کے مذہبی رہنمائوں تک جلد ازجلد پہنچ جانی چاہیئے،وزیراعلی خیبرپختونخوا

پیر مئی 23:43

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ہدایت کی ہے کہ حکومت نے علمائے کرام اور اقلیتی برادری کیلئے ماہانہ اعزازیے کیلئے وسائل پہلے ہی جاری کردیئے ۔انہوںنے متعلقہ حکام کوہدایت کی کہ اعزازیے کی رقم وضع کئے گئے طریقہ کار کے مطابق شفاف انداز میں علماء اور اقلیتی برادری کے مذہبی رہنمائوں تک جلد ازجلد پہنچ جانی چاہیئے ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں علماء کو فکر معاش سے آزاد کرنے کیلئے کسی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی ۔اس اعزاز کا تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہمیں حاصل ہونا الله کی طرف سے ہمارے لئے انعام سے کم نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں علمائے کرام اور اقلیتی برادری کے رہنماؤں کو ماہانہ اعزازیہ دینے کے حوالے سے متعلقہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ہائے خزانہ ، زکوٰة و سماجی بہبود، محکمہ اسٹبلشمنٹ کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے ضلع ایبٹ آباد کے نو منتخب ضلعی ناظم ، صوبائی وزیر مشتاق غنی کی قیادت میں وفود سے ملاقات کے علاوہ وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا یوتھ اسمبلی کی کابینہ سے حلف لیا اور خطاب کیا اور وزیراعلیٰ نے نوشہرہ کینٹ کے ایک 30 رکنی وفد سے بھی ملاقات کی ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مذہبی رہنما سکون قلب کے ساتھ عبادات کیلئے یکسو ہوں، عوام کو معاشرے کے اچھے برے کے مابین فرق پر درس دیں خود بھی سکون اور اطمینان حاصل کریں اور الله کی مخلوق کو بھی معاشرتی بگاڑ کے خلاف تربیت کریں ۔ہمارے معاشرے کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اس معاشرے کی ہر اکائی کو پورے اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داری کی پہچان اور ادائیگی کیلئے کام کرنا ہوگا۔

پی ٹی آئی عوام کو متحرک کرکے فعال معاشرے کے خدوخال وضع کر چکی ہے تاہم یہ کل وقتی کام ہے جو عوامی بیداری سے مشروط ہے اس کل وقتی کام کیلئے ہمیں ذاتی سیاست اور اپنی پسند و ناپسند کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ہمارے معاشرے میں موجود ناسور اور ہمارے بیرونی دشمن کے اپنے اپنے مقاصد ہیں ۔ ہم نے ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانا ہے ۔ ہماری قوم نے متعدد مواقع پر بڑے بڑے چیلنجز پر قابو پالیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ ہم جیسا توانا اور باشعور قوم شاید ہی کوئی ہو۔

فرق صرف اچھے لیڈر شپ اور وژن کی ہے۔ہمیں عمران خان کی شکل میں بہترین لیڈر شپ میسر ہوئی ہے جس کا پاکستان کیلئے وژن واضح اور ترقی کار استہ دکھاتی ہے ۔اس موقع پر عوام کو شعور دینا اور متحرک کرنا ہمیں کامیاب مستقبل کی طرف لیکر جا سکتا ہے۔ہم ایک بار پھر تاریخ کے ایک ایسے دوہرائے پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں ہماری ہر قدم ہر قسم کی لرزش سے پاک ہو ۔

ہم اپنی صفوں میں موجود دشمنوں کو پہچانیں اور اُس کو چاروں شانے چت کریں ۔یہی مظاہرہ عوام نے آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کی صورت میں کرنا ہے ۔علماء کے اعزازیے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے علمائے کرام اور اقلیتی برادری کے مذہبی رہنماؤں کے اعزازیے کا منصوبہ اس غرض سے شروع کیا ہے تاکہ معاشرے میں ہمارے دینی اسلاف و مذہبی رہنماؤں کی عزت اور وقار بلند ہو اورا قلیتی برادری کو بھی اس صوبے کے برابر شہری تصور کیا جائے۔

یہ ہماری حکومت ہے جنہوں نے آئمہ کرام کی فلاح و بہبود کیلئے یہ انقلابی منصوبہ شروع کیا حالانکہ ہم سے پہلے کئی حکومتیں گزر چکی ہیں اور ایم ایم اے نے بھی پانچ سال اس صوبے پرحکومت کی ہے تاہم وہ یہ کام نہ کر سکے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکمہ جات کے حکام سے مذکورہ اعزازیہ کے اجراء کے حوالے سے تازہ صورت حال کے بارے میں دریافت کیا اور ہر محکمہ کو اس حوالے سے جلد از جلد ضروری عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میںوزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ محکمہ زکوٰة نے ماہانہ اعزازیے کے حوالے سے اعداد و شمار کا ریکارڈ متعلقہ حکام کو ارسال کیا ہے جبکہ اس سلسلے میں محکمہ خزانہ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے اور ضلعی زکوٰة آفیسرز کو اس سلسلے میں ضروری کوائف اور لسٹوں کے بھیجنے کے بعد رقوم کا اجراء شروع ہو جائے گا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ مذکورہ اعزازیے کا اجراء بلا کسی رکاوٹ جلد از جلد کیا جائے تاکہ علمائے کرام اور اقلیتی رہنماء صوبائی حکومت کے اس شروع کردہ منصوبے کے ثمرات سے جلد از جلد مستفید ہو سکیں۔

ضلعی ناظم ایبٹ آباد اور مشتاق غنی سمیت مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہماری حکومت کا متعارف کردہ مقامی حکومتوں کا نظام دنیا کے بہترین لوکل گورنمنٹ سسٹمز میں سے ایک ہے ۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی خوبصورتی نچلے لیول پر لوگوں کی بنیادی ضروریات کو سمجھنا ہے۔اس سے پہلے کسی حکومت نے حقیقی معنوں میں اختیارات اور اتھارٹی کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا سوچا تک نہیں تھا جبکہ ماضی میں اختیارات اور اتھارٹی کو اپنے پاس رکھنے کے عمل کے سیاسی مقاصد تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق لوکل گورنمنٹ سسٹم کی کامیابی کیلئے نچلی سطح پر لوگوں کی اجتماعی فیصلہ سازی اور فیصلہ سازی میں مقامی لوگوں کو شریک کرنا سارے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی کامیابی کیلئے ضروری ہے۔۔پرویز خٹک نے کہا کہ ان کی حکومت نے مقامی سطح پر ایک مضبوط اور مستحکم گورننس سٹم طرز حکمرانی کیلئے ایک نئے مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے جس میں حکومتی مشینری عوامی ضروریات کیلئے جواب دہ ہو گی۔

وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ لوکل سسٹم کا فروغ ، اس کی منتقلی کے ذریعے جاری رہے گا۔اس وقت منتخب ادارے شاید اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں سے آگاہ نہ ہوں لیکن جب وہ اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہو کر کام شروع کریں گے تو وہ مقامی سطح پر موثر اور بروقت خدمات کی فراہمی کیلئے عوام کو جوابدہ بھی ہو جائیں گے۔انہوں نے تمام ضلع ناظمین پر زور دیا کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں اپنے عملے اور کارکنوں کو ان کے فرائض کی ایمانداری سے ادائیگی کیلئے ان کے احساس خدمت اور ایمانداری کو بھی بیدار کریں۔