حکومتی نااہلی، وادی نیلم کے کنارے موجود ٹھیلے والے نے پل کی خستہ حالی کے حوالےسے احتیاطی بورڈ نصب کر رکھا تھا

وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن سیلفی کا شوق اس وارننگ پر حاوی ہو گیا اور حادثے میں کئی سیاحوں کی جانیں چلی گئیں،حامد میر

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر مئی 22:00

حکومتی نااہلی، وادی نیلم کے کنارے موجود ٹھیلے والے نے پل کی خستہ حالی ..
آزاد کشمیر(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 14مئی 2018ء ) :حکومتی نااہلی، وادی نیلم کے کنارے موجود ٹھیلے والے نے پل کی خستہ حالی کے حوالےسے احتیاطی بورڈ نصب کر رکھا تھا۔۔حامد میر اپنی ٹوئیٹس میں مذکورہ بورڈ کی تصاویر سامنے لے آئے۔اس موقع پر انکا کہنا تھا کہ وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن سیلفی کا شوق اس وارننگ پر حاوی ہو گیا اور حادثے میں کئی سیاحوں کی جانیں چلی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق وادی نیلم میں ہونے والے حادثے نے حکومتی غفلت اور بد انتظامی کا پول کھول دیا۔ذرائع کے مطابق پل ایک عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پل کسی بھی وقت ٹوٹ کے گر سکتا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت یا شہری انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کی تنبیہ جاری نہیں کی گئی تھی ۔

(جاری ہے)

تاہم وہاں موجود ایک پکوڑا فروش نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت ادا کرتے ہوئے پل کی خستہ حالی کے حوالےسے احتیاطی بورڈ نصب کر رکھا تھا۔

جس پر یہ متن درج تھا کہ سیاح حضرات سے گزارش ہے کہ پل کے قریب مت جائیں یہاں پہلے بھی حادثے رونما ہو چکے ہیں۔پل کی حالت خراب ہے ذرا سی احتیاط بہت بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے۔اس تنبیہی بورڈ کے باوجود نوجوان سیاحوں نے دریا کے پل پر جانے کو ترجیح دی جس کے باعث اتنا بڑا حادثہ وقوع پذیر ہوا۔اس بورڈ کی تصویر ٹوئیٹ کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ وادی نیلم کے اس پکوڑے فروش نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن سیلفی کا شوق اس وارننگ پر حاوی ہو گیا اور حادثے میں کئی سیاحوں کی جانیں چلی گئیں۔

یا درہے کہ گزشتہ روز وادی نیلم میں سیاحوں کی بڑی تعداد پل پر موجود ہونے کے باعث پل ٹوٹ گیا تھا جس کے باعث نالہ جاگراں پر بنا رابطہ پل ٹوٹنے سے 40 سیاح پانی میں ڈوب گئے تھے۔

متعلقہ عنوان :