ملیر ایکشن کمیٹی کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف ایک بار پھر بددعائیہ تقریب واٹر بورڈ کے افسران اور ساجد جوکھیو پر سخت تنقید

واٹر بورڈ پر قائم کیے جانے والے تمام ہائیڈرنٹ غیرقانونی ہیں فورن بند کیے جائیں، ملیر ایکشن کمیٹی میں قرارداد منظور

پیر مئی 23:55

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2018ء) ملیر ایکشن کمیٹی کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف ایک بار پھر بددعائیہ تقریب واٹر بورڈ کے افسران اور ساجد جوکھیو پر سخت تنقید، واٹر بورڈ پر قائم کیے جانے والے تمام ہائیڈرنٹ غیرقانونی ہیں فورن بند کیے جائیں،کراچی میں پانی فراہمی کی پرانی لائنیں بحال کرکے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے،عدالت اور شہریوں کو بیوقوف نہ بنایا جائے،ڈی جی واٹر بورڈ، چیئرمین، وائیس چیئرمین اور ان کے مددگار پانی کی چوری بند کریں ورنہ ان کا گھیراؤ کیا جائے گا،ملیر ایکشن کمیٹی میں قرارداد منظور، تفصیلات کے مطابق آج صبح قاسم آباد ماڈل گوٹھ ملیر میں ملیر ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں سیاسی نمائندوں اور سرکاری افسران سے ملی بھگت کرکے واٹربورڈ کی طرف سے غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹ بند کرنے، سازش کے تحت شہریوں کے پینے کے پانی پر سیاسی نماٰئندوں اور سرکاری افسران کی طرف سے دن رات لاکھوں گیلن پانی چرا کر ٹئنکروں کے ذریعے بیچنے والوں کو گرفتار کرنے اور کراچی میں پرانی سپلائی لائنیں بحال کرنے کا مطالبہ کیا.

ایکشن کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے قاضی لطیف و دیگر نے واٹر کمیشن کے چیئرمین کو مشورہ دیا کہ پرانی سپلائی لائنیں بحال کرنے کے بعد متاثرہ علاقوں کو پانی سپلائی یقینی بنانے پر کام کیا جائی. انہوں نے بحریہ ٹاؤن کو کراچی کا پانی سپلائی کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کے شہریوں کے پانی پر بہت بڑی ڈکیتی ہی. انہوں نے ہاٰئی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملیر کے کنووں کے پانی پر عائد پابندی کے فیصلے پر بھی نظرثانی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملیر کے گوٹھوں میں رہنے والے پانی سے محروم شہریوں کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہی.

انہوں نے تجویز پیش کی کہ ملیر کے تمام کنووِں کے پانی کا لیبارٹری تجزیہ کرکے پینے کے قابل پانی کے کنووں پر سے پابندی ہٹا کر پانی کا مسئلہ حل کیا جائی. اجلاس کے آخر میں کیالیکٹرک کے خلاف بددعائیہ قرارداد منظور کرکے ذمیداروں کی بربادی کے لیے بددعا کی گئی ساتھ میں ملیر کے نمائندوں کے لیے ہدایت کی دعائیں مانگی گئیں

(جاری ہے)