اقتصادی طور پر مستحکم پاکستان دہشتگردی اور انتہا پسندی کو شکست دینے اور علاقائی استحکام کیلئے ناگزیر ہے،سرتاج عزیز،پاکستان دنیا کے 86 فیصد لوگوں کو ایک دوسرے سے ملانے کی وجہ سے تجارت اور صنعتی مرکز بننے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ،پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے،سفیر آذربائیجان علی علی زادہ اور دیگر کا کانفرنس سے خطاب

پیر مئی 23:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ اقتصادی طور پر مستحکم پاکستان دہشتگردی اور انتہا پسندی کو شکست دینے اور علاقائی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات پیر کے روز اسلام آباد میں جغرافیائی تناظر میں سیاست، علاقائی سلامتی اور اقتصادی روابط کے محرکات کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اہم منصوبہ اور ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تزویراتی محل وقوع کی وجہ سے یورپ اور ایشیا کے درمیان پل کا کام کرتا ہے اور خطے میں تجارت، اقتصادی اور دیگر سرگرمیوں کیلئے راہداری فراہم کرتا ہے۔منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کی دانشمندانہ اقتصادی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کرکے اپنے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ مل کر رہنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جغرافیائی اسٹرٹیجک محل وقوع کی وجہ سے مواقع کی سرزمین ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑے پیمانے پر رابطے فراہم کرکے ایک خطہ ایک شاہراہ منصوبے کی اہمیت میں اضافہ کرے۔ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہمارے تمام برادر ملکوں کے ساتھ شاندار روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے 86 فیصد(جس کا60فیصد ایشیاء،تقریبا10فیصد یورپ اور16فیصد افریقہ میں) لوگوں کو ایک دوسرے سے ملانے کی وجہ سے تجارت اور صنعتی مرکز بننے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ایک ایٹمی قوت کی حیثیت سے ہمارے پاس وسیع مواقع ہیں اور ہمارا مستقبل تابناک ہے۔

اس موقع پر آذربائیجان کے سفیر علی علی زادہ نے کہا کہ دنیا کی صورتحال میں ڈرامائی انداز میں تبدیلی آرہی ہے اور عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں ممالک اپنی ریاستی پالیسیوں کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں . پائیدار مستقبل کی طرف بڑھنے کے لئے امن واحد حل ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے اور آذربایجان اس سلسلے میں پاکستان کے مثبت کردار کے لئے شکر گزار ہے۔

سیمنار سے ترکی کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے ممارا یونیورسٹی کے پروفیسر ارہان دوگان نے کہا کہ ترکی بعض علاقائی اور بعض بین الاقوامی تجزیے رکھتا ہے چین ،،امریکہ اورروس دنیا کے دیگر حصوں میں مصروف عمل ہے جس سے ترکی کی دنیا کی عالمگیریت کے ساتھ مسابقت اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی مشترکہ ورثہ کے حامل ہیں اور ترکی کے عوام پاکستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔

قزاخستان کے سفیر بارلیبے صادقوف نے کہا کہ عالمی امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات ایجنڈے میں سرفہرست ہونے چاہیے ۔بین الاقوامی دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے اور اس کے خلاف اجتماعی ردعمل کی ضرورت ہے انہوں نے مزید کہا کہ افعان امن عمل افعان قیادت اور افعانوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔افعان امن عمل میں معاونت سب کی مشترکہذمہ داری ہے۔ازبکستان کے سفیر نے کہا کہ گوادر ازبکستان کے لئے بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں استحکام خطے اور پاکستان دونوں کے اقتصادی رابطے کو مضبوط بنانے کے لئے اہم ہے۔ کرغزستان کے سفیر ، لیفٹیننٹ جنرل( ر) آصف یاسین اور لیفٹیننٹ جنرلطلت مسعود نے بھی خطاب کیا۔