اشتہارات کے شعبہ میں اصلاحات شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں،

سینٹرل میڈیا لسٹ میں اصلاحات کی اشد ضرورت تھی 18 ویں ترمیم کے بعد علاقائی اخبارات کے معاملات اور مسائل کی دیکھ بھال کی زیادہ ذمہ داری صوبوں کی ہے، پھر بھی علاقائی اخبارات کو ان کا جائز حصہ دیا گیا جو ملک کے ہر حصے میں وفاقی آواز بنتے ہیں، اشتہارات کی مکمل تفصیلات، تعداد اور وصول کنندگان کی تفصیل ویب سائٹ پر جاری کی جاتی ہے اخبارات کی سہولت کے لئے اے بی سی سرٹیفکیشن کی مدت توثیق تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے زیراہتمام سمٹ 2018ء سے خطاب

منگل مئی 00:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا دونوں کے لئے اشتہارات کے اجراء کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے اصلاحات کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے زیراہتمام سمٹ 2018ء جس کا موضوع ’’اشتہارات کا مستقبل‘‘ تھا، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری بڑی خواہش تھی کہ پورے اشتہارات کے عمل خواہ وہ اشتہارات دینے والے اداروں، پی آئی ڈی یا اخبارات کی سطح پر ہو، کو تبدیل کیا جائے۔

سمٹ کا اہتمام آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے اشتہارات کی مد میں ادائیگیوں میں تاخیر سیمت دیگر مسائل اور تجاویز پر غور و خوض کے لئے کیا تھا۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ سینٹرل میڈیا لسٹ میں اصلاحات کی اشد ضرورت تھی، ڈمی اخبارات کے معاملات پر وزارت کی سطح پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام فریقین کو سہولت کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔

علاوہ ازیں ڈمی اخبارات کی تشریح کے از سر نو جائزے کے لئے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاخیری پالیسیوں کی وجہ سے ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے بلوں کا ٹائم پیریڈ بہت طویل عمل تھا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اشتہارات کے لئے بجٹ کی تخصیص حقیقت کے مطابق نہیں تھی اور ضروریات کو اضافی بجٹ کے ذریعے پورا کیا جاتا تھا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ میں نے ڈیمپ اور پی آئی ڈی کی سطح پر تصدیق کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا۔

انہوں نے کہا کہ سینٹرل میڈیا لسٹ کو بھی اے پی این ایس کی فہرست سے مربوط کرنے کی ضرورت ہے جس سے مختلف کیٹیگری کے علاقائی روزناموں کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد علاقائی اخبارات کے معاملات اور مسائل کی دیکھ بھال کی زیادہ ذمہ داری صوبوں کی ہے لیکن پھر بھی علاقائی اخبارات کو ان کا جائز حصہ دیا گیا جو ملک کے ہر حصے میں وفاقی آواز بنتے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اے پی این ایس اور پی آئی ڈی کی سنٹرل میڈیا لسٹ کو مربوط کرنے کی بھی کوششیں جاری ہیں تاکہ پی آئی ڈی اور اے پی این ایس کی سطح پر اشتہارات کی الگ رجسٹریشن کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات کی سہولت کے لئے اے بی سی سرٹیفکیشن کی مدت توثیق تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے اشتہارات کی مکمل تفصیلات، تعداد اور وصول کنندگان کی تفصیل ویب سائٹ پر جاری کی جاتی ہے جبکہ علاقائی اخبارات سے متعلق اعداد و شمار چند ہفتوں کے اندر ویب سائٹ پر رکھے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اشتہارات کے بل جمع کرانے سے متعلق معاملات اور طریقہ کار کو بھی مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ممکنہ کم سے کم مدت میں نمٹایا جا سکے اور اے بی سی کی آٹومیشن کا بھی کام جاری ہے جو بہتر کاوش ثابت ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل کیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں ویب سائیٹ پر ڈیٹا اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ علاقائی اخبارات کے اشتہارات کا کوٹہ برقرار رکھا جائے گا اور اس ضمن میں ایک پالیسی کا جلد اعلان ہوگا۔ قبل ازیں انہوں نے اے پی این ایس کے عہدیداروں اور سیشن کے پینلسٹس جن میں حمید ہارون، سرمد علی، جواد ہمایوں، قیصر عالم، عمران عطاء سومرو، بریگیڈیئر (ر) زبیر ریحان، نبیلہ غضنفر، عمران ارشان، علی مستنصر اور اشفاق گوندل شامل ہیں، میں سوینئر تقسیم کئے۔