بھارتی بینک کا 200 اور 2000 کے گندے،پھٹے، پرانے نوٹ تبدیل نہ کرنے کا اعلان

بھارت میں کرنسی نوٹوں کی تبدیلی،ہولناکیاں تاحال جاری،شہری اذیت میں مبتلا،اشیائے ضروریہ کی قلت

منگل مئی 12:00

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) بھارت میں کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کی ہولناکیاں تاحال ختم نہیں ہوسکی ہیں اوراس کے اثرات سے بھارتی عوام اب بھی اذیت اور مشکلات کا شکار ہیں ۔نومبر2016میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اچانک کرنسی نوٹ ختم کرنے اور ان کی تبدیلی کے اعلان کے بعد پورے بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے ۔۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی حکومت کی اس پالیسی سے بھارت میں کئی بحران بھی سامنے آئے جن میں ملک کے کئی علاقے غذائی اجناس کے بحران کا شکار ہوئے،بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت شدید سے شدید تر ہو گئی ۔

کرنسی نوٹوںکو تبدیل کرانے کا حکم صادر ہوتے ہی بھارتی بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئیں اور عوام اپنے سارے کام چھوڑ کر اس امر میں مشغول ہوگئے۔

(جاری ہے)

طویل قطاروں میں لگے عوام آپس میں بھی گتھم گتھا ہو ئے اور متعدد افراد ان لڑائی جھگڑوں میں اپنی جانیں گنواں بیٹھے۔اب بھارتی عوام کی نئی مشکل یہ ہے کہ بھارت کے مرکزی بینک نے دو سو اور دو ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں گندے،کٹے،پھٹے اور پرانے نوٹوں کی تبدیلی آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 28کے تحت ہوتی ہے لیکن 200 اور 2000 کے گندے،پھٹے، پرانے نوٹ آر بی آئی تبدیل نہیں کرے گی۔ایسے نوٹوں کی تبدیلی کا معاملہ آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 28کے تحت آتا ہے، اس ایکٹ میں 5، 10، 50، 100، 500، 1000، 5000 اور 10000 روپے کے نوٹوں کی تبدیلی کا تذکرہ موجود ہے لیکن 200 اور 2000 کے نوٹوں کا ذکر نہیں ہے اور نومبر 2016 ء کے بعد 200 اور 2000 کے نوٹ مارکیٹ میں آنے کے بعد آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 28میں ترمیم نہیں کی گئی۔

اعداد وشمار کے مطابق بھارت میں دو ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی زیر گردش تعداد71لاکھ کروڑ روپے ہے جس میں خراب نوٹوں کی بھی خاصی بڑی تعداد ہے لیکن ضابطوں میں ترمیم نہ ہونے کے باعث ابھی تک انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔بینکوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 200اور 2000 روپے کے کچھ گندے اور خراب نو ٹ موجود ہیں لیکن ضابطوں میں ترمیم نہ ہونے کے باعث ابھی تک انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ دوسری جانب آر بی آئی کا کہنا تھا کہ 2017 ء میں ہی ضابطے میں ضروری تبدیلی سے متعلق وزارت مالیات کو خط ارسال کیا گیا تھا لیکن تاحال حکومت کی جانب سیکوئی جواب موصول نہیں ہوا۔