پرویز مشرف نے بھی اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی ، کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دینے کا اختیار نہیں ہے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال ، تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل مئی 12:24

پرویز مشرف نے بھی اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی ، کسی کو حب الوطنی کا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 مئی 2018ء) : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پرویز مشرف بھی اس معاملے پر تفصیلی بات کر چکے ہیں۔ جنرل پاشا ، عمران خان ، جنرل درانی ، رحمان ملک نے بھی اس موضوع پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا نے غلط رپورٹ کیا۔ نواز شریف کا بیان غلط طریقے سے رپورٹ ہوا ہے، نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ ممبئی حملہ کیس کے حملہ آوروں کو پاکستان سے بھیجا گیا تھا۔ جو باتیں یہاں کی جا رہی ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ممبئی حملہ آوروں کو پاکستان سے بھیجنے کا بیان غلط رپورٹ ہوا ہے۔ اگر نیشنل سکیورٹی کی بات ہوتی ہے تو اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

ہمیں بھارت کا آلہ کار نہیں بننا چاہئیے اور نہ ہی بغیر تصدیق کے اس بات کو آگے بڑھانا چاہئیے۔ اگر ماضی میں جانا ہے تو پارلیمنٹ ایک کمیشن بنا لے ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں، کوئی شخص اگر اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس سے ملکی مفاد کو نقصان ہو گا۔

یہ تمام باتیں مس رپورٹنگ سے شروع ہوئیں اور ان کو اب ختم ہونا چاہئیے۔ کمیشن بنائیں ، ملک کا مفاد ہے تو ضرور بننا چاہئیے ، کیا ہم خود کو بھارتی میڈیا کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں؟نواز شریف کا نان اسٹیک ایکٹرز سے متعلق جُملہ غلط رپورٹ ہوا۔ سیاسی مقاصد کے لیے اگر قومی سکیورٹی کو داؤ پر لگانا ہے تو میں کیا کہوں؟ ہماری پالیسی ہے کہ اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

اس معاملے کو بڑھانا ہے تو نیشنل ٹرتھ اینڈ ری کنسیلشین کمیشن بنائیں، میں اس کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمنٹ کمیشن بنائے مجھے کوئی اعتراض نہیں، پارٹی لیڈرز کا کام ہے کہ حقائق پر مبنی بات کریں، وزیر اعظم کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے خوب احتجاج کیا گیا اور نعرے بازی بھی کی ۔ اپوزیشن نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان کر مسترد کردیا۔

اپوزیشن رہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ وزیر اعظم کی پیٹ میں درد والی بات پر واک آؤٹ کرتے ہیں جس پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نے الزام نہیں لگایا صرف اتنا کہا کہ جس کے پیٹ میں درد ہے وہ بات کر لے۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا۔ خیال رہے کہ سابق وزیرا عظم نواز شریف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ممبئی حملوں میں پاکستانی کردار سے متعلق متنازعہ بیان دیا تھا جس پر ملک کی سیاسی جماعتوں سمیت عوام نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ایک طرف نواز شریف کے اس بیان کو بھارت نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کے استعمال کیا تو دوسری جانب نواز شریف کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا جس نے نوازشریف کے اس بیان کو غلط اور گمراہ کُن قرار دیا۔ نواز شریف نے کل صبح احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور کل شام بونیر میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا دفاع کیا اور اس معاملے پر کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کرے  اور مجھ سمیت جو بھی غدار  ثابت ہو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔