فصلوں،مویشیوں کی انشورنس پالیسیاں سستی ،پریمیم پر انکم ٹیکس کی چھوٹ

تباہ کن سیلابوں، خشک سالیوں اور مویشیوں کی مختلف بیماریوں کے سبب کاشت کاروں کو کئی ارب کا نقصان پہنچ چکا یکم جولائی 2018کے بعد انشور نس پالیسیوں پر ادا کیے جانے والے پریمیم پر انکم ٹیکس کی چھوٹ کا اطلاق ہوجائیگا

منگل مئی 13:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) قدرتی آفات کے سبب کاشت کاروں کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں بچانے کیلئے ملک میں فصلوں کی انشورنس اور مویشیوں کی انشور نس پالیسیوں کوسستا کر دیا گیا ہے اور اب کاشت کاروں کو فصلوں کی انشورنس اور مویشیوں کی انشورنس پر ادا کیے جانے والے پریمیم پر انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے ،یکم جولائی 2018کے بعد ملک میں فصلوں کی انشورنس اور مویشیوں کی انشور نس پالیسیوں پر ادا کیے جانے والے پریمیم پر انکم ٹیکس کی چھوٹ کا اطلاق ہوجائیگا،بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(((ایس ای سی پی)) نے بجٹ سے قبل فصلوں کی انشورنس اور مویشیوں کی انشور نس پالیسیوں پرپریمیم پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 236Uکے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس کی کٹوتی سے چھوٹ دینے کی سفارش کی تھی جیسے وزارت خزانہ اور ایف بی آر نے منظور کرتے ہوئے اسے فنانس بل میں شامل کر کے اس کا اعلان وفاقی بجٹ میں کر دیا ہے ،اب قومی اسمبلی سے فنانس بل2018کی منظوری اور 25مئی تک صدر پاکستان ممنون حسین کے دستخطوں سے اس کے فنانس ایکٹ2018بننے سے یکم جولائی2018سے اس شق کا اطلاق ہو جائے گا ،ملک میں گزشتہ 30 سال کے دوران آنے والے تباہ کن سیلابوں، خشک سالیوں، طوفانی بارشوں اور مویشیوں کی مختلف بیماریوں کے سبب کاشت کاروں کو کئی سو ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے اور اس نقصان سے بچنے کیلئے ملک میں فصلوں کی انشورنس اور مویشیوں کی انشورنس کی پالیسی بنائی گئی اور ملک میں اسے رائج کیا گیا، حالیہ وفاقی بجٹ میں ان انشورنس پالیسیوں پر ادا ہونے والے پریمیم پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جس سے ملک میں ان انشورنس پالیسیوں کی لاگت میں کمی ہوگی اور ملک کے کاشت کار زیادہ سے زیادہ ان پالیسیوں کو خرید کراپنی فصلوں اور مویشیوں کو قدرتی آفات سے بچانے اور نقصانات سے بچانے میں کامیاب ہو جائینگے ۔