وزیرخزانہ کی طرف سے رواں سال 100ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کی نوید خوش آئند ہے‘شہباز اسلم

سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے برآمدکنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیں ،تمام سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا کیے جائیں

منگل مئی 14:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) تاجر رہنما و ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس وانڈسٹری سابق وائس چیئرمین فرایا شہباز اسلم نے وزیرخزانہ کی طرف سے برآمد کنندگان کے 400ارب کے رکے ہوئے سیلز ٹیکس ریفنڈز میں سے رواں سال100ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کی نوید کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے برآمدکنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیں جس کے باعث درجنوں فیکٹریاں بند ہونے کا خدشہ ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے فائونڈ ر چیئرمین عدنان بٹ،ارشد بیگ،تنویر احمد،حقیق احمد،شاہد بیگ اور دیگر صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کرنے سے برآمد کنندگان کی ملکی اشیاء بیرون ملک برآمدات میں عدم دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں جس سے ملکی برآمدات کمی کا شکار ہیںسیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کرنے سے ملکی برآمدات کمی کا شکار اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔

(جاری ہے)

حکومتی دعوے غلط ثابت ہوئے اور ایف بی آر نے صنعتکاروں کے اربوںکے سیلز ٹیکس ریفنڈز دبا لیے ہیں ۔شہباز اسلم نے کہا کہ حکومت چار سالوں سے صنعتکاروں کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کا وعدہ کررہی ہے اب پھر وزیر خزانہ کی طرف سے 100ارب کے رکے ہوئے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی رواں سال کرنے کی نوید سنائی گئی ہے جبکہ رکے ہوئے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مالیت400ارب سے زائد ہے اس لیے ایف بی آر صنعتکاروں کے اربوں کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔تاکہ برآمدکنندگان دلجمعی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کرکے حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرسکیں اور تجارتی خسارہ میں بھی کمی واقع ہو۔