امریکہ کا سفارتخانہ القدس منتقل کرنیکا فیصلہ ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، ترک وزیراعظم

منگل مئی 14:50

انقرہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے امریکہ کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو القدس منتقل کرنے کے دوران بڑی تعداد میں فلسطینی باشندوں کی شہادت پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہا کرتے ہوئے اسے بزدلانہ قتلِ عام قرار دیا ہے۔ ترک خبررساں ادارے کے مطابق ترک وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اپنے سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر القدس میں جشن منا رہا ہے۔

فلسطینی باشندوں کو اپنے حقوق ، آزادی اور مقبوضہ علاقوں کو آزاد کروانے اور اپنی فریاد دنیا تک پہنچانے کے لیے مظاہرہ کرنے والے معصوم انسانوں پر اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے گولیاں برساتے ہوئے شہید کیا جا نے اور زخمی کیے جانے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل یہ سب کچھ فلسطین مملکت کے وجود سے انکار کرتے ہوئے کررہا ہے۔

(جاری ہے)

بدقسمتی سے امریکہ اسرائیل کے اس وحشیانہ حملوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کی پشت پناہی کررہا ہے۔ہم ترکی ہونے کے ناتے امریکہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس فیصلے کو کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے بلکہ یہ فیصلہ ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ فیصلہ علاقے میں مزید مسائل پیدا کرے گا اور علاقے میں امریکہ کے اس فیصلے سے امن کے قیام کی راہ میں مزید رکاوٹیں حائل ہو جائیں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ترک ہونے کے ناتے ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کی آزادی تک ان کا مکمل ساتھ دیتے رہیں گے۔