قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوس ناک ‘ مسترد کرتا ہوں، نوازشریف

معاملے کی چھان بین کے لیے 'قومی کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، دنیا میں ہم تنہا ہو گئے ہیں، کوئی ملک ہے جو آج ہمارے ساتھ ہے، نام بتائیں ،بات ذات کی نہیں پورے ملک کی ہے کہ ملک کس سمت میں چلا گیا،ہمارا کتنا پیارا ملک تھا اب ایسے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے‘سابق وزیر اعظم کی احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگو

منگل مئی 15:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نوازشریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوس ناک ہے جسے مسترد کرتا ہوں،معاملے کی چھان بین کے لیے 'قومی کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، دنیا میں ہم تنہا ہو گئے ہیں، کوئی ملک ہے جو آج ہمارے ساتھ ہے، نام بتائیں ،بات ذات کی نہیں پورے ملک کی ہے کہ ملک کس سمت میں چلا گیا،ہمارا اتنا پیارا ملک ہے، لیکن یہ کیا بن گیا ہے۔

منگل کو احتساب عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے جسے مسترد کرتا ہوں۔

(جاری ہے)

نوازشریف نے کہا اب پتہ کرنا ہوگا کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی اور ذمہ دار کون ہے، ہمارا کتنا پیارا ملک تھا اب ایسے دیکھ کرتکلیف ہوتی ہے، اب معلوم کیا جائے کہ ملک کو یہاں تک کس نے پہنچایا۔

نوازشریف نے کہا کہ مجھے بتادیں کوئی ملک ہمارے ساتھ کھڑا ہے، دنیا میں ہم تنہا ہو چکے ہیں، قومی کمیشن قومی ضرورت ہے، دوسرے ممالک کے ساتھ ہماری دوستیاں ہورہی تھیں، خواجہ آصف سے پوچھیں دوسرے ممالک نے میرے متعلق کیا رائے دی۔ نواز شریف نے کہا کہ ڈان لیکس کے وقت سکیورٹی اجلاس میں بھی یہی بات کی تھی اورسکیورٹی کمیٹی میں کی گئی انہی باتوں کو ڈان لیکس کا نام دے دیا گیا۔