احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بیانات ریکارڈ کرنے سے متعلق نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت ‘جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا گیا شواہد کے مطابق مریم‘ حسن‘ حسین نے جعلی دستاویزات جمع کرائے‘ لندن فلیٹس کی خریداری و دیگر کاروبارکی دستاویزات جعلی نکلیں‘آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء

منگل مئی 15:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نوازشریف،، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بیانات ریکارڈ کرنے سے متعلق نیب کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے، فیصلہ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر اور خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب پروسیکیوٹرسردار مظفر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف،،،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی، نیب پروسیکیوٹر کا موقف تھا کہ قانون کے مطابق تمام گواہوں کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد ملزمان کے بیانات کا مرحلہ آتا ہے،یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت ملزمان کے بیانات نہیں ہوسکتے۔

(جاری ہے)

جس پر سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کا موقف تھا کہ ایک ریفرنس میں ملزمان کے بیانات پہلے قلمبند کیے جائیں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ہم اس بات پر فوکس کررہے ہیں کہ کیس سے توجہ نہ ہٹے اور کارروائی بھی چلتی رہے کیونکہ ان ریفرنس میں فیصلہ تو ایک ہی دفعہ آئے گا۔ بعد ازاں عدالت نے سردار مظفر اور خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت ہوئی ، سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں،جبکہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کیا گیا۔احتساب عدالت میں گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کے اکاؤنٹ کی ٹرانزکشنزکا اصل ریکارڈ اور جاری چیکس کی تفصیلات نجی بینک منیجرنورین شہزادی نے عدالت میں پیش کیں تھی۔دوسری جانب جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ شواہد کے مطابق مریم، حسن، حسین نے جعلی دستاویزات جمع کرائے، لندن فلیٹس کی خریداری و دیگر کاروبارکی دستاویزات جعلی نکلیں۔