کتابی علم سے نکل کر طلبہ کو ملک سے غربت،کرپشن اور لاقانونیت کے خاتمہ کے لئے بھی کام کرنا چاہیے،ڈاکٹرزبیر شیخ

منگل مئی 16:53

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی (ماجو)کے صدرپروفیسر ڈاکٹر زبیر شیخ نے طلبہ سے کہا ہے کہ تین اہم باتوں یعنی لکھنے پڑھنے کی قابلیت،،تعلیم حاصل کرنے اور اپنے علم کی بنا پر فرد کو یہ معلوم ہو تا ہے کہ دنیا بھر میں کیا ہورہا ہے اور دوسرے لوگ سائینس و ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لئے کیا کام کررہے ہیں جس سے ان میں اپنے ملک میں کچھ نیا کردکھانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کتابی علم سے باہر نکل کر اپنے معاشرہ کی ترقی اور فلاح کے لئے بھی کام کریں جن میں ملک سے غربت کے خاتمہ ، تعلیم کے فروغ ،بے روزگاری پر قابو پانے، عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی، لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے اور معاشرہ سے لاقانونیت اور کرپشن کے خاتمہ کی راہ ہموار ہوسکے او ر اس ضمن میں انھیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ ہمارے ملک کا نوجوان طبقہ قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شام ماجو کے کمپیوٹر سائینس اور الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبوں کی روبوٹکس اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سوسائیٹی کے زیر اہتمام اس کے صدر شعیب احمد صدیقی اور نائب صدرمحمد صفیان احمد کی زیر نگرانی منعقد کئے جانے والے نیشنل انجینئرنگ مقابلہ کے پروگرام اسپارکوم۔2018 کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جس میں کراچی کی پانچ یونیورسٹیوں اقراء،بحریہ،انڈس،پی اے ایف(کیٹ) اور ماجو کے طلبہ کے علاوہ اسکولوں اور کالجز کے طلبہ نے بھی شرکت کی تھی۔ماجو میں منعقد ہونے والے نیشنل انجینئرنگ مقابلوں کے درمیان چھ مختلف مقابلوں کے پروگرام رکھے گئے تھے جس کے دوران ماجو کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ججز کے فیصلوں کے مطابق سائینس و ٹیکنالوجی کے مضامین کے سوالات پر مشتمل معلومات عامہ کے مقابلہ کے پروگرام میں ماجو کے طلبہ یاسین مصطفیٰ اور موسیٰ نے پہلی اور ماجو ہی کے اسد اللہ اور دانش رنرزاپ رہے۔

اسپیڈ وائیرنگ کے مقابلہ کے پروگرام سرکٹ رکس میں بحریہ یونیورسٹی کے طلبہ اے وارث منیر اور جنید دانش نے پہلی جبکہ انڈس یونیورسٹی کے منیر اور حمزہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔روبوٹس کے لائین پر چلنے کی ریس کے مقابلہ کے پروگرام کی میز روبوٹس میں پی اے ایف(کیٹ) کی ٹیم روبامئیرز نے پہلی پوزیشن جبکہ ماجو کے سیدّ مصطفیٰ حسین دوسرے نمبر پر رہے۔

اسی پروگرام کے ایل ایف آر روبوٹس میں ماجو کے علی جوہر پہلے اور پی اے ایف (کیٹ) کی ٹیم ڈیلٹا دوسرے نمبر پر رہی۔اسپیڈپروگرامنگ کے مقابلہ میں ماجو کے طلبہ ایم شبیر عباس اورجان عباس جعفرینے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ عبدالوہاب اور ادریس سیف الدین رنرزاپ رہے۔مقابلہ کے پانچویں اور چھٹے پروگرام میں یونیورسٹی،کالج و اسکول کے طلبہ نے اپنے پروجیکٹس پیش کئے تھے جس میں یونیورسٹی کے طلبہ کے مقابلہ کے پروگرام سائینس ورلڈ سینئر میں ماجو کے طالب علم نعمان سرور کے ھوم سیکورٹی پروجیکٹ کو پہلا جبکہ اسی یونیورسٹی کے طلبہ محمد وارث،ایم سعد اور مصدق حسین شاہ کے پروجیکٹ ٹیسلا کوائل جس میں کس بھی بلب کو اس کوائل کے سامنے لانے پر وہ خود بخود روشن ہو جاتا تھا دوسرا انعام دیا گیا۔

اسکول و کالجز کے طلبہ کے پروجیکٹس کے مقابلہ کے پروگرام سائینس ورلڈ جونئیر میں ڈی اے ماڈل ہائی اسکول کی منہال خان کے سولر سٹی کے پروجیکٹ کو پہلا انعام اور اسی اسکول کی طالبہ دعا ملبانی کے کان کے سننے کی صلاحیت کے پروجیکٹ کو دوسر ا انعام دیا گیا۔دریں اثنا ماجو کے نیشنل انجینئرنگ کے مقابلہ کے پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے میونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر غضنفر منیر نے کہا کہ ہمارے ملک میں یونیورسٹیوں اور کالجز و اسکولوں کے طلبہ کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو یہ معلوم ہوسکے کہ تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں ہماری یونیورسٹیوں میں کیا کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول و کالج کے طلبہ ہمارے پروگراموں میں شرکت کرکے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بعد ازاں تقریب کے اختتام پر محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر زبیر شیخ نے مقابلوں کے کامیاب طلبہ میں سرٹیفیکیٹس اور کیش ایوارڈ تقسیم کئے اور ایک اچھے پروگرام کے انعقاد پر کمپیوٹر و انجنیئرنگ کے شعبوں کے اساتذہ و طلبہ کو مبارکباد پیش کی