انسداد دہشتگردی عدالت میں سانحہ 12 مئی کیس کی سماعت؛میئر کراچی سمیت دیگرپر فرد جرم عائد ،ملزمان کا صحت جرم سے انکار

اس سانحہ کی تحقیقات ہونی چاہیے،معصوم لوگ بلاوجہ مقدمات بھگت رہے ہیں،مئیر نامزد ہونے کے بعد مجھ پر 40 مقدمات ڈالے گئے میئر کراچی وسیم اختر کی انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت

منگل مئی 17:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سانحہ 12 مئی کے کیس میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے ۔گزشتہ روز کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں سانحہ 12 مئی کے کیس کی سماعت ہوئی،جس میں میئر کراچی وسیم اختر اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔انسداد دہشتگردی عدالت نے کیس میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی،جبکہ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

وکلا کی عدم حاضری کے باعث ملزمان پر دیگر 3مقدمات میں فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی،تاہم عدالت نے سانحہ 12 مئی کے کیس میں آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جون تک ملتوی کردی۔انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ سانحہ 12 مئی کی ازسر نو تحقیقات ہونی چاہیے،سانحہ کے اصل حقائق اور چہرے عوام کے سامنے آنے چاہئیں،معصوم لوگ بلاوجہ مقدمات بھگت رہے ہیں،اگر اسی طرح معاملات چلے تو لوگ بدظن ہو جائیں گے،ہم مقدمات سے بھاگنے والے نہیں،سامناکریں گے۔

(جاری ہے)

۔انہوں نے کہا کہ جعلی مقدمات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے،مئیر نامزد ہونے کے بعد مجھ پر 40 مقدمات ڈالے گئے،ایک دن میں میرے خلاف 20،20 ایف آئی ار کاٹی گئیں،مئیر نامزد ہونے کے بعد مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔12 مئی 2007 کو وکلائ تحریک اپنے عروج پر تھی۔اٴْس وقت کے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر کراچی آرہے تھے کہ اس موقع پر شہر کو خون سے نہلا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد پر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان استقبال کیلئے نکلے اور کئی مقامات پر اٴْس وقت کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں میں مسلح تصادم شروع ہوگیا تھا۔شہر کی شاہراہوں پر اسلحے کا آزادانہ استعمال دیکھنے میں آیا اور خون ریزی میں وکلاء سمیت 48 افراد شہر کی سڑکوں پر دن دہاڑے قتل کردیئے گئے تھے۔

ان واقعات میں 130 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ درجنوں گاڑیاں اور املاک بھی نذر آتش کردی گئیں۔جس کے بعد شہر کے مختلف تھانوں میں ان افراد کے قتل کے 7 مقدمات درج ہوئے۔تقریباً 20 ماہ قبل پولیس نے ساتوں مقدمات کے چالان انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں جمع کرایا، جس میں اٴْس وقت کے مشیر داخلہ اور موجودہ میئر کراچی وسیم اختر اور رکن سندھ اسممبلی کامران فاروق سمیت 55 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔یہ تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہیں اور مقدمات میں 20 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی۔