مستونگ کیڈٹ کالج میں طلبا پر تشدد، عدالتی حکم پر معطل کالج پرنسپل گرفتار

اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم ،ْ تین دن میں رپورٹ پیش کریگی

منگل مئی 18:41

مستونگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) بلوچستان کے ضلع مستونگ کے کیڈٹ کالج میں اساتذہ کی جانب سے طالب علموں پر مبینہ تشدد اور مرغا بنا کر لاٹھی سے پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متعلقہ کالج کے پرنسپل کو گرفتارکرلیاگیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مستونگ کیڈٹ کالج میں اساتذہ کے طلبہ پر مبینہ تشدد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں اساتذہ کو طالب علموں کو مرغا بنا کر بری طرح تشدد کرتے دیکھا گیا۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کردیا جس کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جو 3 دن میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین ایڈیشنل سیکریٹری کالجز اینڈ ہائر ایجوکیشن حیات کاکڑ ہوں گے جبکہ ڈپٹی کمشنر مستونگ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) مستونگ بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

نوٹیفیکشن کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔دوسری جانب کالج کے پرنسپل، ذمہ دار اساتذہ اور متاثرہ طلبا کو انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے واقعہ کی مرتکب انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء پر تشدد کا رجحان برداشت نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کیڈٹ کالج مستونگ کے پرنسپل کو معطل کردیا۔اس حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ پرنسپل کو کالج میں بدانتظامی پر معطل کیا گیا۔۔گورنر نے تشددکے واقعے سے متعلق انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔