دبئی میں خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش میں پاکستانی نوجوان کو جیل کی سزا

دبئی کی عدالت نے 19 سالہ پاکستانی نوجوان کو فلپائنی خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش میں تین ماہ جیل کی سزا سنا دی ہے

Sadia Abbas سعدیہ عباس منگل مئی 18:31

دبئی میں خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش میں پاکستانی نوجوان کو جیل ..
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) دبئی عدالت نے 19 سالہ پاکستانی نوجوان کو سوتے ہوئے خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش میں تین ماہ جیل کی سزا سنا دی ۔ مزید تفصیلات کے مطابق عدالت نے جُرم ثابت ہونے کے بعد پاکستانی نوجوان کو تین ماہ جیل کی سزا سنائی ہے ۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 19 سالہ پاکستانی نوجوان نے فلپائنی خاتون کو سوتے ہوئے نازیبا طریقے سے چھونے کی کوشش کی تھی ۔

تاہم نوجوان نے عدالت میں اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کی تردید کی تھی لیکن عدالت نے جُرم ثابت ہونے کے بعد پاکستانی شہری کو تین ماہ جیل کی سزا کے بعد ملک بدر کرنے کا حکم سنایا ہے ۔ یہ واقعہ دبئی میں 19 مارچ کو القصیص کے علاقے میں پیش آیا اور پولیس کو رپورٹ کیا گیا تھا۔ 38 سالہ فلپائنی خاتون نے جو کہ ایک کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کے طور کام کرتی ہے نے پولیس کو بتایا کہ القصیص کے صنعتی علاقے کی ایک رہائشی عمارت میں وہ دوپہر تین بجے کے قریب استقبالیہ ڈیسک کے پاس ایک کرسی پر بیٹھی تھی کہ اچانک اُسکی آنکھ لگ گئی اور جب اُسکی آنکھ کھلی تو اُسنے دیکھا کہ پاکستانی نوجوان اُسکے پیٹ اور کہولوں کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا ۔

(جاری ہے)

خاتون نے مزید بتایا کہ جیسے ہی اس نے نوجوان پر چلانا شروع کیا تھا پاکستانی نوجوان بھاگ گیا لیکن دوبارہ چند منٹ بعد واپس آیا اور خاتون کو واپس اپنے ساتھ آنے کا بولا ۔ خاتون نے بتایا کہ اسنے اگلے دن پولیس کو اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے شکایت درج کرائی تھی کیونکہ وہ حیران اور پریشان تھی کہ پاکستانی نوجوان نے اسکے ساتھ کیا کیا ہے ۔

فلپائنی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اسے نہیں معلوم کہ پاکستانی نوجوان کب سے اس ساتھ یہ حرکت کر رہا تھا کیونکہ اس کی آنکھ پانچ سے دس منٹ کے لیے لگی تھی اور جب اسکی آنکھ کھلی تو اسنے دیکھا کہ پاکستانی نوجوان کے ہاتھ اسکے اوپر تھے ۔ خاتون نے مزید بتایا کی جب نوجوان واپس آیا تو اسنے اسکے ساتھ بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اسکے پاس نہیں گئی اور نہ ہی اسکی بات سمجھ پائی کیونکہ وہ اسکی زبان سے واقف نہیں تھی ۔خاتون نے بتایا کہ وہ مدد کے لے چلائی نہیں تھی کیونکہ کوئی بھی عمارت میں اس کے آس پاس موجود نہیں تھا ،اس لیے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔