تھانہ مری پولیس میں تعیناتی کیلئے افسران کی بولیاں لگنے لگیں‘

چار سالوں سے بااثر قبضہ مافیا کا من پسند افسران کو ایس ایچ او اور تفتیشی تعینات کروانا معمول بن گیا

منگل مئی 19:37

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) تھانہ مری پولیس میں تعیناتی کیلئے افسران کی بولیاں لگنے لگیں‘ گزشتہ چار سالوں سے بااثر قبضہ مافیا کی جانب سے من پسند پولیس افسران کو بطور ایس ایچ او اور تفتیشی حضرات تعینات کروانا معمول بن گیا ہے۔ ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ پاکستان کے سیاحتی مر کز مری میں قبضہ مافیا نے شہریوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے اور آئے روز بااثر قبضہ مافیا کی جانب سے شہریوں کو پولیس کی مدد سے ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔

دستاویزات کے مطابق 2014 ء میں قبضہ مافیا کے خلاف مقدمہ نمبر 466 درج کیا گیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر علمدار الرحمن کی مدعیت میں 2015 ء میں بھی قبضہ مافیا کے مقدمات درج کئے گئے لیکن تاحال پولیس کی جانب سے قبضہ مافیا کو گرفتار کرنا تو درکنار ان کی پشت پناہی کرنا معمول بن گیا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ بالا قبضہ مافیا میں شامل اکثریت جرائم پیشہ افراد کی ہے۔

سنگین نوعیت کے مقدمات میں پنجاب پولیس کو مطلوب ہیں کئی سال گزرنے کے باوجود پولیس زین نامی قبضہ مافیا کے سرغنہ کو گرفتار نہیں کر سکی۔ ایس ایچ او مری ملک رفاقت نے استفسار پر موقف اختیار کیا کہ آئندہ چند روز میں ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا میری چند دن پہلے تعیناتی کی گئی ہے واضح رہے کہ کئی روز گزرنے کے باوجود پولیس تاحال قبضہ مافیا کو گرفتار نہیں کر سکی۔