خیبر پختونخوا پولیس کو سیاست میں الجھا کر مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، میاں افتخار حسین

مجھ پر قتل کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے کیلئے وزیر اعلیٰ نے پولیس کو استعمال کیا قتل کی غرض سے پولیس کے ذریعے مجھے دفتر سے باہر لایا گیا اور غنڈوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا،سیکرٹری جنرل عوامی نیشنل پارٹی

منگل مئی 20:19

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کپتان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے کی پولیس کوسیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے جھوٹے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو جس طرح سیاست میں الجھایا گیا اور اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا اس کی صوبے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس کا زندہ اور جیتا جاگتا ثبوت میں خود ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خٹک نامہ یو سی شاہ کوٹ کوٹلی کلاں میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بیشتر افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں نے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور انہین مبارکباد پیش کی ، انہوںنے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ضلع میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ضلع کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جو ان کے منصب کو کسی صورت زیب نہیں دیتا ،اس سے قبل ان کے چچا نصر اللہ خٹک نے بھی اس حلقے کے عوام کو نظر انداز کئے رکھا ،جبکہ اقربا پروری کی تاریخ رقم کی ، موجودہ وزیر اعلیٰ نے سرکاری ملازمین کو ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا ، ضلع میں کوئی یونیورسٹی تک قائم نہیں کی جبکہ دعوے تعلیمی ایمرجنسی کے کئے جاتے رہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں عبدالولی خان یونیورسٹی کیمپس منظور کیا اور اجمل خٹک کے نام سے جو پولی ٹیکنیک کالج قائم کیا وہ پرویز خٹک نے یہاں سے منتقل کر دیا ، انہوں نے کہا کہ صوبائی و قومی اسمبلی دونوں حلقوں پر کامیاب ہونے کے بعد ایم این اے کی سیٹ چھوڑ کر اس پر اپنے بھانجے کو منتخب کرایا اور نوشہرہ کے عوام کے خلاف انتقام کا جذبہ لے کر میدان میں اترے ،انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں انتخابی مہم کے دوران ہمارے دفتر پر پی ٹی آئی کے سینکڑوں غنڈوں نے حملہ کیا اور اس میں مجھے یرغمال بنانے اور بعد ازاں قتل کرنے کی غرض سے اغوا کی کوشش کی ، اس دوران پولیس نے مجھے بچانے کا بہانہ کر کے مجھے دفتر سے نکالا اور باہر لا کر اسلحہ بردار غنڈوں کے حوالے کر دیا ، اس بلوے کے دوران غنڈوں نے ایک معصوم نوجوان کی جان لے لی اور اس کا الزام مجھ پر لگا دیا جس کی تردید نوجوان کے والد نے موقع پر اور بعد ازاں عدالت میں بھی کی لیکن اس قتل کی ایف آئی آر پولیس نے پرویز خٹک کے دباؤ میں آ کر میرے خلاف کاٹ دی۔

(جاری ہے)

اسلحہ بردارغنڈوں کے سامنے پولیس بے بس تھی جبکہ آرمی کے ایک میجر نے اپنی فورس کے ہمراہ کمانڈو ایکشن کر کے مجھے ان سے چھڑایا ،اس دوران میری بلٹ پروف گاڑی پر ڈنڈے پتھر اور گولیاں برسائی گئیں جس پر بعد ازاں 20لاکھ روپے خرچہ آیا ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیسی مکمل طور پر سیاسی دباؤ میں رکھی گئی اور اسے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،میاں افتخار حسین نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اُس وقت اس واقعے کی مذمت کی ،انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور صوبے کے تمام سرکاری محکمے مالی و انتظامی بدحالی کا شکار ہیں،انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے جس کا پول چیف جسٹس کے دورہ پشاور کے بعد کھل چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم کے حوالے سے حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا اور گزشتہ سال آنے والے میٹرک کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت نے تعلیم کا محکمہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ، 18ویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے چھوٹے صوبوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اور اٹھارویں ترمیم کی صورت میں صوبے کے حقوق اور شناخت حاصل کی ،انہوں نے کہا کہ اب اس ترمیم کو رول بیک کرنے یا کسی اور ترمیم کے ذریعے اسے چھیڑنے کی باتیں ہو رہی ہیں تاہم یہ یاد رہے کہ صوبوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے کی صورت میں اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی،،سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مغربی اکنامک کوریڈور ہر صورت تعمیر کیا جائے گا تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ، پختونوں اور فاٹا کے عوام کو سی پیک کے ثمرات سے محروم کیا گیا اور مرکزی حکومت شروع دن سے خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔