اپٹماکارمضان المبارک کے دوران پنجاب کی انڈسٹری کیلئے روزانہ دس گھنٹے بجلی کی بند ش کے شیڈول پر شدید احتجاج

بلا تعطل بجلی فراہم نہ ہونے سے دس لاکھ لیبر بیروزگار ہو جائیگی،صنعتکاروںکا وفد مسائل کے حل کیلئے آج وزیر خزانہ سے ملاقات کریگا اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز کی پنجاب کے چیئرمین علی پرویز ملک کے ہمراہ اپٹما ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس

منگل مئی 20:24

اپٹماکارمضان المبارک کے دوران پنجاب کی انڈسٹری کیلئے روزانہ دس گھنٹے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ( اپٹما)نے رمضان المبارک کے دوران پنجاب کی انڈسٹری کیلئے روزانہ دس گھنٹے بجلی کی بند ش اور ہفتے میں صرف دو روز گیس کی فراہمی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا تعطل بجلی فراہم نہ ہونے سے دس لاکھ لیبر بیروزگار ہو جائے گی ۔ اس امر کا اظہار اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز نے پنجاب کے چیئرمین علی پرویز ملک کے ہمراہ اپٹما ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی انڈسٹری دیگر صوبوں کے مقابلے میں بجلی اور گیس کے زیادہ نرخ ادا کرتی ہے ۔ پنجاب میں انڈسٹری کے لئے بجلی کا ایک یونٹ 12سی13روپے کے درمیان ہے ۔ ہمار امطالبہ ہے کہ پنجاب میں انڈسٹری کو آٹھ روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جائے ۔

(جاری ہے)

ہم گارنٹی دیتے ہیں اگر اس قیمت پر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو پنجاب کی تیس سے پینتیس فیصد بند انڈستری چل پڑے گی جس سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔

ہم حکومت سے کسی طرح کی سبسڈی نہیں مانگتے لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں عالمی قیمتوں کے مطابق بجلی اور گیس فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور دیگر صوبوں میں انڈسٹری کو گیس اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی ہو رہی ہے ۔ان صوبوں کیلئے گیس سے تیار کردہ بجلی کا یونٹ چھ روپے جبکہ پنجاب میں گیس سے تیار کردہ بجلی کا ایک یونٹ 13روپے میں پڑتا ہے اس صورتحال میں ہم انڈسٹری کیسے چلائیں ۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میںبجلی اور گیس کی یکساں نرخ مقرر کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دعویٰ کیاہے کہ انہوں نے سسٹم میں اضافی دس ہزار میگا واٹ بجلی شامل کی ہے ۔انڈسٹری کی ڈیمانڈ صرف ایک ہزار میگا واٹ ہے اگر سسٹم میں زائد بجلی شامل کی گئی تو پھر انڈسٹری کے لئے د س گھنٹے روزانہ بجلی بندش کا شیڈول کیوں جاری کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب پانچ سال کے بعد وہیں کھڑا ہے ،پہلے انڈسٹری کو چار دن گیس ملتی تھی اور بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت آٹھ روپے تھی اب صورتحال یہ ہے کہ انڈسٹری کے لئے گیس کا کوٹہ دو دن کے لئے کر دیا گیا ہے جبکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ دس گھنٹے ہو گئی ہے ۔

اپٹما کے پچا س سے زائد صنعتکار وں کا وفد آج ( بدھ)کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کیلئے بات کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریفنڈ کا مسئلہ بھی حل نہیں کیا اور300ارب سے زائد کے ریفنڈ ابھی تک زیر التواء ہیں ۔انہوںنے کہا کہ پنجاب کی انڈسٹری سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں امتیازی سلوک کے خلاف ہمارے کیسز تین سال سے سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں ۔

چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ ہمیں انصاف دلائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قرضوں پر نہیں چل سکتی اس کے لئے برآمدات میں اضافے کو اولین ترجیح دی جائے ۔ اگر حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو مشکلات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ پاکستان کا دفاع اور ترقی اقتصادی سکیورٹی میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے ہماری برآمدات 25ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں اگر حکومت انڈسٹری کیلئے دس فیصد گروتھ کو یقینی بناتے تو برآمدات میں ہر سال پانچ ارب ڈالر اضافے سے اس کا حجم 40ارب ڈالرتک پہنچ چکا ہوتا ۔تاہم حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ ہماری ایکسپورٹ بڑھنے کی بجائے کم ہو کر 20ارب ڈالر کی سطح پر آ گئی ہیں۔