برطانیہ اور اقوام متحدہ نے پاکستان کے نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانے اور تحفظ دینے کیلئے "آوازدو- " پروگرام کا آغاز کر دیا

منگل مئی 20:34

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کی ادارے (DFID) پاکستان میں اقوام متحدہ (UN) کو پانچ سال (2018-22) پروگرام پر عمل درآمدکے لیے 17.25 ملین پونڈ فراہم کرے گا۔ یہ پروگرام "آواز دو" پاکستان کے نوجوانوں، خواتین، لڑکیوں اورلڑکوں کو بااختیار بنانے او ر ان کو تحفظ میں مدد فراہم کرے گا۔ جو اکثر استحصال کے نتیجے میں معاشرے میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

آج ڈاکٹر عاصمہ حیدر، رکن (سوشل سیکٹر اور ڈی ویوشن) پلانگ کمیشن آف پاکستان ، کی زیرصدارت تقریب میں اس معاہدے پر سربراہ DFID) ((پاکستان،، محترمہ جوانا ریڈ اوریونیسف کی نمائندہ پاکستان ، محترمہ عیدہ گرما نے دستخط کئے۔ "آواز دو" حکومت او ر مقامی کمیونٹی کے ساتھ بچوں، نوجوانوں اور عورتوں کے حقوق کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرے گا۔

(جاری ہے)

پروگرام کی خصوصی توجہ کا مرکز بچوں سے جبری مشقت پر ہو گی ، اِس پروگرام کے تحت خیبر پختونخواہ (KPK) اور پنجاب میں 7 ملین افرادمستفید ہونگے ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر اسما حیدر نے کہا کہ، "میں اقوام متحدہ کے نیٹ ورک کی جانب اس اقدام اورحکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کئی سالوں سے جاری ترقیاتی پروگرام میں مشترکہ ترقی و عمل کی تعریف کرتی ہوں۔اس پروگرام کی ساری فنڈنگ برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے کے ذریعے کی گئی جو کہ قابلِ تعریف ہے۔ اور ہمیں امید ہے کہ یہ فنڈنگ وثرن 2025، پانچ سالہ منصوبہ 2018-23 اور 2030 ترقیاتی ایجنڈا میں بھی اپنا حصہ ڈالے گی ۔

انہوں نے مزید کہا’ میں دعا کرتی ہوں کہ اس سرمایہ کاری سے مکمل ہونے والے پروگرامز کامیابی سے ہمکنار ہو‘‘۔ '''برطانیہ اور پاکستان دونوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کے پہلے عالمی سیٹ پر دستخط کرکے بچوں سے جبری مُشقت کو ختم کرنے کا اعادہ کیا ہے، پاکستان میں ڈی ایف آئی ڈی کے سربراہ جوانا ریڈ نے کہا : آواز دو پروگرام اس کامیابی کا لازمی جزو ہے۔

ہم ایک ساتھ مل کرکے تحت معاشرے میں ہر سطح پر تبدیلی لاسکتے ہیں، "آواز دو" کے تحت ہم کمزور طبقہ کی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔ اب مزید وہ گمنام نہیں رہیں گے۔ اب ان کی آوازدبائی نہیں جا سکے گی ۔اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوارڈینیٹر نے کہا ’’ بچوں، خواتین اور نوجوانوں کی پاکستان کی ترقی میں مدد کرنااور پاکستان میںمسابقتی فرق کو کم کرنے میں مددگار ہوگا جو کہ ایک اہم جو کہ پائیدار ترقی کے مقصد اہم قدم ہے۔

"آواز دو" کو یونیسیف ،یو این ایف پی پی، یو این وومن مشترکہ طور پر لاگو کیا جائے گا ۔ یونیسف بچوں کے تحفظ کے نظام کو مجموعی طور پر مضبوط بنانے اور خاندانوں، کمیونٹیوں اور حکومتوں کو بچوں کے حقوق تحفظ فحال کردار ادا کرنے پر زور دیتا ہے ،UNFPAکا مقصد یہ ہے کہ خواتین کو باہمی فیصلے اور اختیارات سے متعلق انتخاب کرنے میں بااختیار بنانا ہے۔

یو این وومن کے اہم توجہ کا مرکز باہمی مساوات کو مظبوط بنانا ہے ۔ یو این وومن پاکستان میں خصوصی طور پر بچوں نوجوانوں اور خواتین کے لیے قومی اور صوباہی مختلف پروگراموں کے زریعے کام کرتا ہے۔ صوبائی حکومتوں کے نمائندے، UNFPA، کی جانب سے حسن محتشامی، UNWOMENکی جانب سے جمشید ایم قاضی اور UNICEFکی جانب سے محترمہ آئدہ گرمااور برٹش ہائی کمیشن کے آفیشلز بھی اس موقع پر شریک تھے۔