پاکستان اور ہالینڈ زراعت اور میری ٹائم کے شعبے میں باہمی اشتراق سے ترقی کرسکتے ہیں،

آردی اسٹیو آئی اوس براکن سینٹرل ایشیا ء میں داخلے کے لئے پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ گیٹ وے ہیں جن کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، ہالینڈ سفیر

منگل مئی 20:37

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) پاکستان میں تعینات ہالینڈ کی سفیر آردی اسٹیو آئی اوس براکن نے کہا ہے کہ پاکستان اور ہالینڈ زراعت اور میری ٹائم کے شعبے میں باہمی اشتراق سے ترقی کرسکتے ہیں،اسلام آباد میں موجود ہالینڈ کی ایمبیسی نے انہی شعبوں میں نظر مرکوزکی ہوئی ہے،وہ مقامی ہوٹل میں ہالینڈ کے بادشاہ ولیم الیگزینڈر کی 51 ویں سالگرہ کے موقع پر اعزازی قونصل جنرل طارق ایم خان اور عدیلہ طارق خان کی جانب سے دئیے گئے عشائیے کے موقع پر اظہار خیال کررہی تھیں،تقریب میں سفارت کاروں بزنس مین اور سیاسی وسماجی شخصیات نے شرکت کی ،ہالینڈ کی سفیر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ موجودہ سال میں ہالینڈ کی کمپنیاں اپنے نمائندوں کو پاکستان بھیجیں گی،انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کی کمپنیاں شپ بلڈنگ،شپ یارڈ ،قدرتی گیس کے ٹرمینل کی تعمیر میں مدد کرسکتی ہیں،اس کے علاوہ بندر گاہوں کی ترقی میری ٹائم ٹرینگ اور تعلیم کے شعبے میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے،انہوں نے کہا کہ روٹردم یورپ کا گیٹ وے ،جبکہ سینٹرل ایشیا ء میں داخلے کے لئے پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ گیٹ وے ہیں جن کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہالینڈ دنیا کا دوسرا بڑا زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی زرعی پیداوار بڑھانے میں ہالینڈ اہم کردار ادا کرسکتا ہے،اس کے علاوہ پانی کی بہتر منیجمنٹ اور موسمیات کی تبدیلی کے پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے ہالینڈ کے ماہرین ان سے نمٹنے میں مہارت رکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کا مشن دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری اور تجار ت میںاضافے کے لئے سنیحدگی سے کام کررہا ہے ،ہالینڈ کی سفیر نے کہا کہ کراچی کا پاکستان کی معیشت میں جو حصہ ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کا سفارت خانہ امن سیاسی استحکام اور خطے میں تجارتی سرمیاں بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہالینڈ بین الاقوامی کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہے اور خواتین اور برابر کے حقوق کا حامی ہیں ،ہم چاہتے ہیں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔