لاہور ،ویٹرنری یونیورسٹی میں صحت بخش معیاری دودھ کی پیداوار کو بہتر بنانے کے حوا لے سے گا ئی/ بھینسو ں کے حوا نہ کی صحت سے متعلقہ سمپو زیم کا انعقاد

پنجاب بھر میںبڑ ی تعداد میںمحکمہ لا ئیو سٹاک کی گا ڑیا ں مویشی پال حضرات کی دہلیز پر تمام تر طبی سہو لیا ت فراہم کر رہی ہیں، دودھ کی پیداوار حا صل کرنے کا زیا دہ تر انحصا ر گائے، بھینس کے صحت مند حوا نہ پر منحصر ہو تا ہے اور مو یشی کا حوا نہ ضا ئع ہو نا غریب مویشی پال حضرات کے معا شی نقصا ن کا باعث بنتا ہے،نسیم صا دق سیکرٹر ی لا ئیو سٹاک و دیگر ماہرین کا سمپوزیم سے خطاب

منگل مئی 21:07

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے ڈیپا رٹمنٹ آف کلینیکل میڈیسن ایند سر جر ی نے پنجاب ایگریکلچر ریسر چ بو رڈ کے با ہمی اشتراک سے گذشتہ روزصحت بخش معیاری دودھ کی پیداوار کو بہتر بنانے کے حوا لے سے گا ئی/ بھینسو ں کے حوا نہ کی صحت سے متعلقہ سمپو زیم کا انعقاد کیا۔ افتتا حی تقریب کی صدارت سیکرٹر ی لا ئیو سٹاک اینڈ ڈیر ی ڈیویلپمنٹ پنجاب نسیم صا دق نے کی جبکہ دیگر اہم شخصیات میںوا ئس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پا شا ، ایگزیکٹیو ممبر پنجاب ایگریکلچر ریسر چ بو رڈ پرو فیسر ڈاکٹر محمد عبد اللہ، پرو وا ئس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر مسعو د ربا نی، پرو فیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درا نی کے علا وہ فارم مینیجر ،پرو فیشنلز ، طلبہ و فیکلٹی ممبران بڑ ی تعداد میں شر یک ہو ئے۔

(جاری ہے)

اُ س موقع پر خطاب کر تے ہو ئے سیکرٹر ی لا ئیو سٹاک نسیم صا دق نے کہاکہ پنجاب بھر میںبڑ ی تعداد میںمحکمہ لا ئیو سٹاک کی گا ڑیا ں مویشی پال حضرات کی دہلیز پر تمام تر طبی سہو لیا ت فراہم کر رہی ہیں۔اُنہو ں نے کہا کہ دودھ کی پیداوار حا صل کرنے کا زیا دہ تر انحصا ر گائی/ بھینس کے صحت مند حوا نہ پر منحصر ہو تا ہے اور مو یشی کا حوا نہ ضا ئع ہو نا غریب مویشی پال حضرات کے معا شی نقصا ن کا باعث بنتا ہے بلکہ جا نور کو بھی زبح کرنا پڑ جا تا ہے۔

اُ نہو ں نے مز ید کہا کہ دیہی مو یشی پال خوا تین کو بھی آ گا ہی پہنچا نے کی بے حد ضرورت ہے لہذا اس سلسلے میں در پیش تمام رکا وٹوں کو عبور کر کہ محکمہ لا ئیو سٹاک آ گا ہی فراہم کر رہاہے۔ سیکرٹر ی لا ئیو سٹاک نسیم صا دق نے معلو ما تی سمپو زیم کا انعقاد کروانے پر ویٹر نری یونیورسٹی کی کا وشو ں کی بھر پور تعریف کی نیز کہا کہ لا ئیو سٹاک سیکٹر کی تر قی کے لیئے سمپو زیم کا انعقاد انتہا ئی اہمیت کا حامل ہے۔

اپنے خطاب میںڈاکٹر پا شا نے کہا کہ اگر دودھ دینے والے مو یشی کا ایک بھی تھن سا ڑو جیسے مہلک مر ض کا شکا ر ہو جا ئے تو سوزش کیوجہ سے مویشی کا پورا حوا نہ بر ی طرح متا ثر ہو کر خرا ب ہو جا تا ہے اور اس سے نا صرف دودھ کی پیدا وارمیںفر ق پڑ تاہے بلکہ وہ مو یشی پال کسان کے لیئے معا شی نقصان کا با عث بھی بنتا ہے لہذا ویٹر نری یونیورسٹی نے اس حوا لے سے اہم مو ضو ع پرسمپو زیم کا انعقاد کیا ہے جس میں مویشی کے علا ج کی بجا ئے مسٹا ئٹس بیماری کے روک تھام پر فوکس کیا گیا ہے تا کہ علا ج کی صورت میں استعمال ہو نے والی ویکسین کا مضراثر متا ثر ہ مو یشی کے دودھ میں شامل ہو کراس دودھ کوپینے والے انسان کی صحت پر برُے اثرات مر تب نا کر سکے۔

اُ نہو ں نے سمپو زیم کے شر کا کو مو یشی پال حضرات کی رہنما ئی کے لیئے اردو زبا ن میں ایک معلو ما تی کتا بچہ مر تب کر نے کی ضرورت وا ہمیت پر بھی زور دیا۔ جس سے کسا نو ںکو مسٹائٹس( سا ڑو) جیسی بیماری سے بچا ئو کے بارے میں احتیا طی تدا بیر سے متعلقہ تفصیلی آ گا ہی مل سکے گی۔ اُنہو ں نے غریب مویشی پال کسا نو ں کو تمام تر طبی سہو لیات فراہم کرنے پر محکمہ لا ئیو سٹاک کی لیڈر شپ کی کا وشو ں کی تعریف بھی کی۔

ایک رو زہ سمپو زیم میں ما ہرین نے معیاری دودھ کے لیئے حوا نہ کی صحت ،پاکستانی مو یشیو ں(گا ئے،بھینسو ں) میں مسٹا ئٹس( ساڑو) کی مو جودہ حا لت اور خطرے کا تجزیہ، حوا نہ کی صحت پر غذا ئیت کے اثرات،دودھ دینے والے مویشیو ںکی تو لیدی کارکردگی،ڈیر ی فارم پرمویشیو ں کے حوا نو ں کی نگرا نی،سا ڑو بیما ری کی روک تھام میں حا لیہ تر قی اور مویشیو ں میں سا ڑو بیما ری کی روک تھام کے لیئے ویکسین کے کردار سے متعلقہ مختلف مو ضو عات پر تفصیلی لیکچرز دیئے ۔