سینیٹ میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2018ء کی کثرت رائے سے منظور

منگل مئی 21:07

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سینیٹ نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2018ء کی کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل خان نے تحریک پیش کی کہ بل کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے بعض ارکان نے بل پر غور موخر کرنے اور اسے کمیٹی کو واپس بھجوانے یا پھر ایتھکس کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ماضی میں یہ روایت موجود ہے کہ کمیٹی ایک مرتبہ کسی معاملے کو منظور کر کے بھجوا دیتی ہے تو پھر اسے دوبارہ کمیٹی کو نہیں بھیجا جا سکتا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ نے بھی بل زیر غور لانے پر زور دیا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں قائم مقام چیئرمین نے تحریک پر ایوان میں رائے شماری کرائی تو اس کے حق میں 25 اور مخالفت میں 16 ارکان نے ووٹ دیا جس کے بعد قائم مقام چیئرمین نے بل شق وار منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قبل ازیں وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ اس بل کی قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے منظوری دی ہے اور سی این جی کے شعبہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایک حل طے پایا ہے جس کے تحت 19 ارب روپے کے پہلے سے وصول شدہ ٹیکس واپس ہو چکے ہیں جبکہ 12 ارب روپے مزید بھی واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس پر لابنگ کر رہے ہیں کیونکہ حکومت کی مدت ختم ہونے والی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ عدالتوں میں ہی رہے اور اگلی حکومت اس پر کوئی فیصلہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کرپشن کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور اگر کرپشن ہوئی ہے تو ہم تو کہیں گے کہ اسے کمیٹی کو بھیجنے کی بجائے نیب کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بل پر پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے اسے موخر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بل کی منظوری پر تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے واک آئوٹ کر گئی۔