چکوال، سردار غلام عباس کی مسلم لیگ ن سے علیحدگی کے بعد چکوال کا سیاسی درجہ حرارت تیزی کیساتھ بڑھنے لگا

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں سے سردار غلام عباس ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں

منگل مئی 21:41

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس کی مسلم لیگ ن سے علیحدگی کے بعد ضلع چکوال کا سیاسی درجہ حرارت تیزی کیساتھ بڑھنے لگا ہے۔ سردار غلام عباس ضلع چکوال کی سب سے بڑی انتخابی اور سیاسی قوت کی حامل شخصیت ہیں جنہوں نی2013کے انتخابات میں موجودہ حلقہ این ای64سے ایک لاکھ9ہزار جبکہ حلقہ پی پی23سی48ہزار ووٹ بطور آزاد امیدوار حاصل کیے تھے۔

ضلع چکوال کی سیاست میں 1985سے 2013تک کے آٹھ عام انتخابات میں مجموعی طور پر ہمیشہ مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو ہی کامیابی ملی ، صرف ایک بار1993میں سردار ممتاز ٹمن اورسردار غلام عباس پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 2018کے انتخابات میں ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اس وقت کامیابی کی کنجی سردار غلام عباس کے پاس ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی دو بڑی جماعتیں ہیں جن میں سے سردار غلام عباس ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے پی ٹی آئی کا چھکا لگنے کے امکانات روشن ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت سے چھکے کا امکان کوئی نہیں البتہ انفرادی حیثیت میں سردار غلام عباس کو اپنی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کی صورتحال بھی ڈاواں ڈول ہے 2015کے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرینز میں جو ایک واضح دراڑ پیدا ہوئی تھی ابھی تک برقرار ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال ، ایم پی اے ملک شہریار اعوان ایک طرف ہیں جبکہ دوسری طرف ایم این اے سردار ممتاز ٹمن، ایم این اے میجر طاہر اقبال اور ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ ہیں۔

سینیٹر جنرل عبدالقیوم صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم سیتھی ، ایم پی اے مہوش سلطانہ، ایم این اے بیگم عفت لیاقت، ایم پی اے چوہدری سلطان حیدر علی پارٹی کیساتھ سنجیدہ ہیں اور ان کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ جس کے پاس پارٹی ٹکٹ ہوگا ہم ان کیساتھ ہیں۔ ملک سلیم اقبال اور سردار ممتاز ٹمن اور سردار ذوالفقار دلہہ کو کون اکٹھابٹھائے گا اور ان کے معاملات طے کرائے گا تمام نظریں ایک دفعہ پھر بھون چوک پر لگی ہیں۔

بہرحال مسلم لیگ ن مخالف قوتیں جس تیزی کیساتھ صف بندی کر رہی ہیں مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرینز نے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ایڈجسٹ نہ کیا تو پھر نوشتہ دیوار واضح طور پر سامنے لکھا ہے۔ بہرحال 2018کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے دار مقابلے کیلئے سٹیج لگ چکا ہے۔ سردار غلام عباس پی ٹی آئی میں گئے تو پھر مسلم لیگی قلعہ یقینی طو پر زمین بوس ہوسکتا ہے۔