کراچی، نرسنگ اسٹاف کی ٹریننگ کے لئے تربیتی انسٹیٹیوٹ کے قیام کی بھرپور کوشش کریں گے، وسیم اختر

سندھ حکومت قومی ادارہ برائے امراض قلب (NICVD )کی طرح کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے لئے بھی فنڈز فراہم کرے، کے ایم سی کے ضلع آکٹرائے شیئر کی مد میں 6 ارب روپے حکومت کے ذمے ہیں،میئر کراچی

منگل مئی 21:47

کراچی، نرسنگ اسٹاف کی ٹریننگ کے لئے تربیتی انسٹیٹیوٹ کے قیام کی بھرپور ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ نرسنگ اسٹاف کی ٹریننگ کے لئے تربیتی انسٹیٹیوٹ کے قیام کی بھرپور کوشش کریں گے، سندھ حکومت قومی ادارہ برائے امراض قلب (NICVD )کی طرح کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز (KIHD )کے لئے بھی فنڈز فراہم کرے، کے ایم سی کے ضلع آکٹرائے شیئر کی مد میں 6 ارب روپے حکومت کے ذمے ہیں اگر یہ ادا کردیئے جائیں تو ہیلتھ سمیت دیگر شعبوں میں نمایاں تبدیلی لے آئیں گے، شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہرممکن کوششیں کر رہے ہیں، اسپتالوں میں نرسز اور دیگر اسٹاف کے جائزحقوق دلوانے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے، یہ بات انہوں نے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں منعقدہ عالمی نرسنگ ڈے کی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیدسیف الرحمن، ضلع وسطی کے وائس چیئرمین سید شاکر علی، ہیلتھ کمیٹی کی چیئرپرسن ناہید فاطمہ، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بیربل اور دیگر کے ایم سی افسران سمیت ڈاکٹرز اور نرسز کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کے اسپتالوں میں درپیش مسائل حل کرنے کے لئے تمام تر ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں جو اسپتال ملے تھے وہ انتہائی خراب حالت میں تھے اور اسپتالوں میں آکسیجن تک دستیاب نہیں تھی ہماری کوشش ہے کہ ہم ان کی حالت کو بہتربنائیں اور تاکہ شہریوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں، انہوں نے کہا کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز شہریوں کو قلبی امراض کے علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے لہٰذا حکومت سندھ اس ادارے کو بھی دیگر طبی اداروں کی طرح گرانٹ مہیا کرے، تاکہ یہ مزید بہتر انداز میں شہریوں کی خدمت کرسکے، صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے، ہمارے ہاں طبی سہولیات کا فقدان ہے اور خاص طور پر غریب و متوسط طبقے کے افراد کو اس کی وجہ سے شدید دشواری کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ نرسنگ کا شعبہ قابل احترام ہے کیونکہ اسپتالوں میں داخل مریضوں کے علاج میں ان کا بنیادی کردار ہے جس کے اعتراف میں ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عالمی نرسز ڈے کے موقع پر اس سال میٹروپولیٹن نرسنگ ایوارڈز جاری کئے اور کے ایم سی اور دیگر اداروں میں کام کرنے والی نرسنگ اسٹاف کی حوصلہ افزائی کے طورپر انہیں ستائش اور ایوارڈز سے نوازا گیا ، انہوں نے کہا کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں کام کرنے والے نرسنگ اسٹاف کا موازنہ پاکستان کے کسی بھی بڑے نجی طبی ادارے کے نرسنگ اسٹاف سے کیا جاسگتا ہے یہاں نرسنگ اسٹاف مکمل طور پر خدمت خلق کے جذبے کے تحت مریضوں کی خدمت کا فریضہ انجام دے رہا ہے جو قابل تحسین ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے دیئے گئے فنڈز کے ذریعے کے ایم سی کے اسپتالوں میں دوائیاں فراہم کی جائیں گی، کے ایم سی کے اسپتالوں کے لئے یہ فنڈز فراہم کرنے پر ہم ان کے مشکور ہیں، قبل ازیں کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد اللہ حسینی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی کی آج کی اس تقریب میں شرکت ہمارے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

(جاری ہے)

میئر کراچی KIHD کو ایک بہتر اور موثر امراض قلب کا ادارہ بنانے میں دلچسپی لے رہے ہیں جس کے باعث KIHD میں خاصی بہتری دیکھنے میں آرہی ہے جہاں آنے والے مریضوں کے آپریشن سمیت بہترین طبی علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر KIHD نسرین خانم نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر قومی ترانہ اور ایک تفصیلی ڈاکیومینٹری کے ذریعے KIHD میں امراض قلب کے مریضوں کے علاج معالجے کی سہولیات کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔