ْحکومت نے جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبہ میں کئی میگا پراجیکٹ مکمل کئے ہیں، خواجہ سلمان رفیق

منگل مئی 21:50

ْحکومت نے جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبہ میں کئی میگا پراجیکٹ مکمل کئے ..
لاہور۔15 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) صوبائی وزیرصحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کے شعبہ طب میں انقلابی اقدامات کے ثمرات سے عوام مستفید ہورہے ہیں۔جنوبی پنجاب کے ہیلتھ بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، بڑے ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ بنیادی مراکز صحت میں جدید سہولیات فراہم کی گئیں، منظم حکمت عملی کے تحت میڈیکل سٹوڈنٹس کی تعداد میں اضافہ، میڈیکل نصاب میں جدت، ادویات کی فراہمی، جدید مشینری،مراکز صحت کی اپ گریڈیشن، کولڈ سٹوریج و بلڈ سنٹرز کا قیام، ہسپتالوں تک عام آدمی کی رسائی ممکن بنائی گئی ہے۔

ایڈمن و میڈیکل ٹیچنگ سٹاف کے تعاون کے بغیر ہم اپنی منزل حاصل نہ کرسکتے تھے، ہماری کامیابیوں کا تمام سہرا ہمارے میڈیکل کے پروفیسرز اور انتظامی افسران و سٹاف کو جاتا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے سینڈیکیٹ کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اعجاز مسعود، پروفیسر ڈاکٹر سمیع اختر، ڈاکٹر غلام مصطفی، پروفیسر ڈاکٹرمصطفی کمال پاشا، ڈاکٹر عبدالرحمن قریشی، ڈاکٹر وقار ربانی، ڈاکٹر ظہیر، میڈم شاہدہ، اراکین صوبائی اسمبلی رانا طاہر شبیر، مظہر عباس راںو دیگر ممبران و افسران نے شرکت کی۔

نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے تھرڈ سینڈیکیٹ اجلاس میں دوسرے اجلاس کے منٹس، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے رولز کے نفاذ، ٹیچنگ و سپورٹنگ سٹاف کے انسینٹوز، یونیورسٹی رجسٹریشن، ایکس پوسٹ فیکٹو سینکشنز، پینڈنگ معاملات، پڈسا(PIDSA)پے منٹس، ویسٹ کولیکشن کے لئے 3ملین روپے، انٹرنل ٹیلی فون ایکسچینج وانٹر نیٹ ورکنگ، نشتر میڈیکل یونیورسٹی سیکرٹریٹ کے لئے ہارڈوئیر، کوالٹی انہانسمنٹ سیل، کمپیوٹرآئزیشن پراسیس، سٹاف ہائیر سروسز، کنٹریکٹ ملازمین کی معیاد میں توسیع، آئی ٹی آفیسرنازلی احمد، اور لیگل ایڈوائزر حاجی محمد اسلم ایڈووکیٹ کی تقرریوں سمیت ایجنڈا کی باقاعدہ منظوری بھی دی گئی۔

صوبائی وزیرنے بتایا کہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے ایجنڈے کی منظوری سے معاملات میں بہتری آئے گی۔ میڈیکل ٹیچنگ سٹاف کی تنخواہیں نجی شعبہ کے برابر کرنے کے لئے بھی تجاویز زیرِغور ہیں۔ کوشش کی جارہی ہے کہ ترقی پانے والے پروفیسرز بڑے اداروں میں ہی رہیں تاکہ وہاں سٹاف کا خلا پیدا نہ ہو۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے رولز کے مطابق ٹیچنگ میڈیکل فیکلٹی کے لئے ورکنگ پیپرز تیار کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے معاملات بہتری کے لئے شفاف طریقہ سے کام کیا، میڈیکل کالجز کے قیام کے ساتھ ساتھ طلباء و طالبات کی سیٹوں میں اضافہ کیا۔ ہماری کاوشوں میںشعبہ صحت کے تمام سٹاف کا تعاون شامل رہا ہے جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔اجلاس میں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اعجاز مسعود نے ویڈیو لنک کمیٹی روم، حیات ظفر آڈیٹوریم کی تزئین و آرائش اورویسٹ اٹھانے کے لئے ٹریکٹر ٹرالی کی خریداری کامعاملہ بھی سنڈیکیٹ کے اجلاس میں پیش کیا ۔

Your Thoughts and Comments