کوئٹہ، مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کا بی این پی (عوامی) میں شمولیت کا اعلان

منگل مئی 22:26

ٍکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) پاکستا ن مسلم لیگ (ن))بلوچستان خواتین ونگ کی سابق صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ممتاز اختر اور سابق صوبائی آفس سیکرٹری مرزا کامران علی نے اپنے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ن) سے مستعفی ہو کربی این پی (عوامی) کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی قیادت میں بی این پی (عوامی) میں شمولیت کا اعلان کردیااس موقع پر بی این پی (عوامی))کوئٹہ کے آرگنائزر عبدالوکیل مینگل ،سینٹرل کمیٹی کے ممبر ڈاکڑ یاسر نصیر شاہوانی، ضلع کوئٹہ کی خاتون رہنماء فاطمہ مینگل ،رحم بی بی ساسولی ،عبدالطیف سمالانی،میر محمد سمالانی،نعمان خان ترین،غلام فاروق لہڑی و دیگر موجود تھے ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے نئے شمولیت کرنے والوںکو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ بی این پی( عوامی) ہی وہ واحد جماعت ہے جو بلوچستان کے حقوق کی تحفظ اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے سیاسی جماعتوں سے لوگوں کی جوق درجوق پارٹی میں شمولیت پارٹی کے مثبت پالیسی اورعوامی خدمات کانتیجہ ہے ہم ممتاز اختر اور مرزا کامران کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہے اس موقع پر ممتاز اخترنے میڈیا اور کارکنوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سولہ سے سترا برس مسلم لیگ (ن) میں رہ کر عوام کی خدمت کرتی رہی اور مسلم لیگ(ن) کیلئے شب و روز کام کیا بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں پارٹی کے پروگرام اور آئین ومنشور کو گھر گھر پہنچاتی رہی باوجود ان تمام خدمات کے پارٹی نے ہمیں مایوس کے سوا کچھ نہیں دیااور سرمایہ داروں ،جاگیرداروں ،نوابوں اور سرداروں کو نوازاگیاسولہ سے سترا برس مسلم لیگ (ن) کی کئی اہم عہدوں پہ میں رہ چکی ہوں جن میں جنرل سیکرٹری خواتین ونگ مسلم لیگ (ن) کوئٹہ ،،مسلم لیگ (ن) کی صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کی ممبر ،صوبائی کونسل کی ممبر،مرکزی کونسل کی ممبرعلاوہ ازیں یو ،سی ،32کوئٹہ حلقہ دیبہ کی دو مرتبہ لیڈی جنرل کونسلر بھی منتخب رہی اور2013کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی خصوصی خواتین ایم پی اے کی میرٹ لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھی جو کہ بعد میں چینج کرکے میرے نام کو ساتواں نمبر پر لایا گیا 2013کے انتخابات میں پارٹی قائد نے نظریاتی کارکنوں کو اکثر نظر انداز کیا بلوچستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی مینڈیٹ دیگر پارٹیوں کی جھولی میں ڈال دی گئی جو کہ میگا پروجیکٹس بلوچستان میں بننے تھے وہ دیگر صوبوں میں بنائی گئی بلوچستان کے فیصلے رائیونڈ اور مری میں کیئے گئے بلوچستان پر صرف حکمرانی کیا گیا خدمت نہیںوزیراعلیٰ بلوچستان ہاؤس کے دروازے کارکنوں کیلئے بند جبکہ مفاد پرستوں کیلئے ہمیشہ کھلے رہیں بیوروکریسی کے چند لوگ جو ہر حکومت کو فیل کرنے میں انکا نمایاں کردار رہا مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں بھی وہی لوگ بڑھ چڑھ کو حصہ لیتے رہے اور کارکنوں کی حوصلہ شکنی کرتے رہے ان تمام حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے میں آج مایوس ہوکر مسلم لیگ (ن) کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہوکربی این پی (عوامی) کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی قیادت میں بی این پی (عوامی) میں شامل ہوتی ہوں اور بی این پی (عوامی) کے مرکزی صدر میر اسرار اللہ خان زہری،میر اسد اللہ بلوچ،سید احسان شاہ ،میر اصغر رند،میر ظفرا للہ زہری ودیگر قائدین پرمکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہوں انہوں نے کہا کہ بی این پی (عوامی) نے اپنے دور اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیئے اور بلوچستان کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے لوگ جوق درجوق بی این پی (عوامی) میں شامل ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ دیگر کارکنوں کے شانہ بشانہ ہوکر تعلیم یافتہ پر امن و خوشحال بلوچستان کے حصول کیلئے کوشاں رئینگے اس موقع پر بی این پی (عوامی ))کوئٹہ کے آرگنازئر عبدا لوکیل مینگل ،بی این پی (عوامی) کوئٹہ کی خاتون رہنماء فاطمہ مینگل،رحم بی بی ساسولی،عبدالطیف سمالانی،میرمحمد سمالانی،نعمان ترین ودیگر نے کہا کہ ہم امید کرتے ہے کہ ممتاز اختر صاحبہ اور کامران علی بلوچستان کے عوام کی حقوق اور پارٹی پیغام کو گھر گھر پہنچائینگے بی این پی (عوامی) نے اپنے دور اقتدار میں مایوس اور بیروزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرکے بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کیا نا م نہاد قوم پرستوں اور مفاد پرستوں نے بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر سائل وسائل کا سودا کردیا لیکن اب قوم پرست اور مفاد پرست کے چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں عوام نے انہیں پہچان لیا آنے والا دور بی این پی (عوامی) کا ہی ہوگا عوام 2018کے انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے قوم پرستوں اور مفاد پرستوں کی احتساب کریں۔