نجی سکول تعلیم کے شعبہ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بچوں کی کردار سازی پر توجہ مرکوز کی جائے ،ْ انجینئر بلیغ الرحمن

جمہوریت کے تسلسل سے ملک کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری آئی اور عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ،ْوفاقی وزیر

منگل مئی 22:29

نجی سکول تعلیم کے شعبہ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بچوں کی کردار سازی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت انجینئر محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ نجی سکول تعلیم کے شعبہ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بچوں کی کردار سازی پر توجہ مرکوز کی جائے، جمہوریت کے تسلسل سے ملک کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری آئی اور عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہوا۔ وہ منگل کو آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی تعلیمی بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کی رکن منتخب ہونے پر زیب النساء چوہدری کے اعزاز میں دی جانے والی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے وفاقی تعلیمی بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کی رکن منتخب ہونے پر زیب النساء چوہدری کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نجی و سرکاری تعلیمی ادارے مل کر تعلیم کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں، نجی شعبہ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پوری دنیا میں نجی شعبہ تعلیم کے شعبہ میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہے اور یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو جو ذمہ داری ملی تھی، پوری دیانتداری کے ساتھ اسے سرانجام دیا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا مقصد صرف مدت مکمل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک بہترین حکومت فراہم کرنا تھا۔ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ پہلی سے پانچویں جماعت تک کا نیا نصاب مکمل ہو گیا ہے اور اسے آئندہ ہفتہ جاری کر دیا جائے گا، نئے نصاب میں بچوں کی شخصیت سازی پر کام کیا گیا ہے، ہمارا مقصد ایک مفید شہری بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک کی تعلیم کا قانون پاس کیا گیا اور وفاقی دارالحکومت اور وفاق کے زیر انتظام سکولوں میں اس کو رائج کر دیا گیا ہے، مستقبل میں اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سے پانچویں تک ناظرہ قرآن پڑھایا جا رہا ہے جبکہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائے گا، اس کیلئے ایسے ترجمہ کا انتخاب کیا گیا جس پر تمام مکاتب فکر کے علماء متفق ہیں تاہم اس کے باوجود ہم نے اسے دوبارہ علماء کمیٹی میں پیش کیا جو اس کا جائزہ لے رہی ہے اور اس پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی اجازت سے انہوں نے بہاولپور کے سرکاری سکولوں میں قرآنی تعلیم کا آغاز کیا، شروع میں اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن اب اساتذہ، والدین اور طلباء کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور اس کی برکت سے بہاولپور ’’الف اعلان‘‘ کی تعلیمی رینکنگ میں 45ویں نمبر سے 10ویں نمبر پر آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب نے بھی سرکاری سکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کا بل منظور کر لیا ہے، وہاں بھی جلد تمام سکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم شروع کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی تعلیمی بورڈ کو بہتر بنایا گیا اور اس کے امتحانی نظام میں جدت لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی جائزہ کیلئے نظام کو ازسرنو متحرک کیا گیا اور 2018ء سے تعلیمی جائزہ کیلئے ایک غیر ملکی فرم ٹمز کی خدمات حاصل کی گئیں جس سے ہمیں عالمی سطح پر اندازہ ہو گا کہ ہم تعلیم کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں اور اس میں کیسے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تسلسل سے ملک کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری آئی اور عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہوا۔ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں تعلیمی بجٹ میں دوگنا سے زیادہ اضافہ کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے نجی سکولوں کے مالکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیسوں کا تعین ان کا حق ہے لیکن کسی بھی سکول کو فیسوں میں یکمشت اضافہ کی اجازت نہیں دیں گے کہ جس سے والدین پر بوجھ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ 5 سے 10 فیصد اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن دوگنا نہیں۔ بلیغ الرحمن نے کہا کہ اگر والدین فیس کی وجہ سے اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لیں تو اس سے بچے کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے کہ اس والدین اس کی سکول فیس ادا نہیں کر سکے۔ انہوں نے نجی سکولوں پر زور دیا کہ وہ بچوں میں امید اور مثبت نقطہ نظر کو اجاگر کرنے میں ان کی مدد کریں جو مستقبل کے خوشحال پاکستان کیلئے ضروری ہے۔

قبل ازیں ایسوسی ایشن کے صدر ابرار احمد نے سکولوں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے اور وفاقی تعلیمی بورڈ کے دائرہ کار کو پورے ملک تک بڑھانے کے حکومتی اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے اساتذہ کو مقام دینا ہو گا۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کاشف ادیب نے کہا کہ ملک میں شرح خواندگی کو سو فیصد کرنے کیلئے سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ کو بھی کردار ادا کرنا ہے اور وہ اس کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں۔