گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق ملنے چاہئیں، یہاں کے عوام گزشتہ 70 سالوں سے اپنے ووٹ کا جمہوری حق مانگ ر ہے ہیں

مقررین کا ’’مین سٹریمنگ گلگت بلتستان‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

منگل مئی 22:51

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق ملنے چاہئیں، نوجوان طبقہ انتہائی احترام اور باادب طریقے سے اپنے جائز مطالبات سامنے رکھ رہا ہے، گلگت بلتستان کے عوام میں شعور آ گیا ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے شہید بھٹو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا جس کا ’’مین سٹریمنگ گلگت بلتستان‘‘ تھا۔

مقررین میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، علی احمد جان صدر پی پی گلگت بلتستان، مولاناعطاء اللہ صدر جے یو آئی جی بی، امجد حسین ایڈوکیٹ صدر شہید بھٹو فاؤنڈیشن جی بی، ماروی سرمد، ڈاکٹر شریف سمیت دیگر سماجی وسیاسی شخصیات شامل تھیں۔

(جاری ہے)

فرحت اللہ بابر نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہر شہر میں ایک ہی وقت اور ایک ہی موضوع پر جی بی کے عوام کو سیمینار اور پروگرامز منعقد کرنے کی ضرورت ہیں تاکہ جی بی کے عوام کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا ہو سکے۔

مولانہ عطاء اللہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی دوسروں کی مساوی حقوق دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو سینے سے لگائیں۔ امجد حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ایشوز کو سمجھنے کی ضرورت ہے، 20 سے 25 لاکھ کی آبادی پچھلے 70 سالوں سے اپنے ووٹ کا جمہوری حق مانگ رہی ہے، جی بی کے عوام کو خود مختار جوڈیشری دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سب کیلئے ایک قانون ہونا چاہئے۔ ماروی سرمد نے کہا کہ 2009ء میں پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ جی بی کو قانونی حیثیت دی، گلگت بلتستان کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جو اسلام آباد اور جی بی کے درمیان ایک پل بنی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت ملنی چاہئے۔ ڈاکٹر شریف نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے لئے قربانی دی ہے اور ہمیں قومی اور سینیٹ اسمبلی میں نمائند گی دی جائے۔