سندھ اسمبلی : مالی سال 2018-19 ء کے صوبائی بجٹ پر دوسرے روز بھی بحث جاری رہی ، حکومت اور اپوزیشن ارکان نے بھر پور حصہ لیا

منگل مئی 22:51

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سندھ اسمبلی نے منگل کو دوسرے روز بھی مالی سال 2018-19 ء کے صوبائی بجٹ پر بحث جاری رکھی ، جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف کے ارکان نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔ایوان کی کارروائی اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ صوبائی بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کی منحرف رکن اسمبلی سمیتا افضال نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ایم پی ایز کے فنڈز میں حکومت کرپشن کی، جس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوا ، اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈ کہاں خرچ کیے اس بارے میں بھی سندھ کے عوام اور ایوان کو بتایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ،،سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے فنڈز بڑھ گئے لیکن شہر سے کچرا پھر بھی نہیں اٹھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

ایم کیو ایم کے انجینئر صابر حسین قائم خانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے دس سالوں میں کچھ نہیں کیا ،لگتا ہے مزید دس برس درکار ہونگے ،وسائل کے اعتبار سے نمبر ون صوبے کو سب سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خسارے کا ذکر ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ خسارہ حکومت کہاں سے پورا کریگی ،غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کیا گیاپورے بجٹ میں عوام کے لئے صرف پچیس فیصدمختص کیا گیا اتنے بڑے بجٹ کے ہوتے ہوئے بھی حکومت سود کا سہارا لے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار اور وزراء کی موج مستی لگی ہوئی ہے ،بات کھربوں کی کی گئی لیکن حزب اختلاف کے اراکین کو یکسر نظر انداز کردیاگیا ،زراعت، تعلیم اور صحت کے شعبے کو بھی نظر انداز کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں حکومت نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کئے۔ صابر قائم خانی نے کہا کہ شہری اور دیہی افراد میں تقسیم پیپلزپارٹی کا خاصا رہا ہے۔انہوں نے حکومتی کارکردگی پر اشعار بھی سنائے مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ سندھ حکومت نے سندھ کی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارے والا بجٹ پیش کیا ہے ،رواں مالی سال میں نو محکموں نے نو ماہ کے دوران ایک روپیہ بھی ترقیاتی بجٹ میں خرچ نہیں کیا،لگتا ہے ان محکموں کے کرتا دھرتاؤں میں اہلیت نئیں تھی ۔

سندھ کے آبادگاروں کا بٴْرا حال ہے انکے نصیب میں صرف لاٹھیاں اور ان پر واٹر کینن کا استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ نامکمل منصوبوں کا قبرستان بن گیا ہے ،،بجٹ کے ہر جملے کے آخر میں کہا گیا کہ کیا جائیگا کرینگے ،مٹھی، کرم پور، خیرپور، بدین اور جیکب آباد میں کیڈٹ کالجز بننے تھے مگر کچھ پتہ نہیں کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ سندھی زبان کی ترقی کے لئے حکومت ناکام رہی ہے ،سندھی زبان میں سائن بورڈز تک نہیں لگ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی قونصل خانے کی سندھی ویب سائٹ کے قیام پر ہم نے خوشی میں رقص کیا مگر سندھ اسمبلی کی سندھی ویب سائیٹ نہیں بن سکی ۔ پیپلز پارٹی کے رکن خورشید جونیجو نے کہا کہ بدقسمتی سے سندھ میںآبپاشی کا نظام تباہ ہوچکا ہے جس کی زسر نو تعمیر کی ضرورت ہے۔معاشی اعتبار سے سندھ دیگر صوبوں سے پیچھے ہے ۔کاپی کلچر کے خاتمے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

کاپی کلچر کا آغاز 1969 میں انجنیئرنگ کالج جامشورو سے ہوا,,تعلیم پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہی.۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شاہ حسین شیرازی نے کہا کہ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ترقی دیکھنی ہے تو سندھ آئیں انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب سندھ میں ترقی نہیں دھول اڑ رہی ہے ،جو ترقیاتی کام مشرف دور میں ہوئے اسکے بعد کچھ نہیں ہوا۔۔سندھ میں نوکریاں فروخت کرنے کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں،اسپتالوں میں دوا ہے نہ انجکشن اور نہ ڈاکٹر ہوتا ہے ، سندھ حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کردئیے کام کچھ نہیں کیا ۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن ثمر علی خان نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ منتخب نمائندوں نے پانچ سال عوام کی کوئی خدمت نہیں کی ان کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ میں وقت ضائع کرنے کے لئے الیکشن نہیں لڑونگا۔ ثمر علی خان نے کہا کہ بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا حکومت بتائے کس کو روٹی کپڑا مکان دیا گیاہی انہوں نے کہا کہ وزیرتعلیم جام مہتاب نے میرے حلقے میں کام کرنے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں انہوں نے مجھے لیٹر دیکھا دیا کہ ادی نے کام کرنے سے منع کردیا ہے، ثمر علی خان نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کے لئے اسکول میں ٹوائلیٹ نہیں بنواسکتا، مجھے سندھ سے ہجرت کرجانا چاہئے۔

سندھ کا ترقیاتی بجٹ تعصب کی نظر کردیا گیا ہے۔حیدر آباد سے ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی راشد خلجی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب لطیف آباد کی تین اسکیمز نکال کر کہیں اور منتقل کی گیئں سندھ میں غیر منصفانہ تقسیم ہرجگہ ہے ۔۔بجٹ پر بحث کے دوران حالت یہ ہے کہ وزرا اور افسران کی نشستیں خالی ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ اپوزیشن حلقوں کے ٹیکس پدہندگان ووٹرز کیوں ترقی سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیرمنتخب افراد کے زریعے کراچی پر حکومت کی جارہی ہے ۔۔ایم کیو ایم کے منحرف رکن شیراز وحید نے کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب کورنگی کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو دوا نہیں ملتی۔بعدازاں اسپیکر نے ایوان کی کارروائی بدھ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔