راولپنڈی، ڈھوک حسو میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پرخاتون ٹیچرکے قتل سمیت دیگر مقدمات میں مطلوب 2 خطرناک ملزمان گرفتار

ملزمان 10مئی کوتھانہ گنجمنڈی کی حوالات توڑ کر فرار ہو گئے تھے دونوں ملزمان 25دن سے جسمانی ریمانڈ پر تھانہ رتہ امرال پولیس کی تحویل میں تھے جنہیں تفتیش کے لئے تھانہ گنجمنڈی کی حوالات میں رکھا گیا تھا

منگل مئی 22:51

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) راولپنڈی پولیس نے تھانہ رتہ امرال کے علاقے ڈھوک حسو میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پرخاتون سکول ٹیچرکے قتل سمیت ڈکیتی اور فائرنگ کے 15سے زائد مقدمات میں مطلوب 2 خطرناک ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے ملزمان 10مئی کوتھانہ گنجمنڈی کی حوالات توڑ کر فرار ہو گئے تھے دونوں ملزمان 25دن سے جسمانی ریمانڈ پر تھانہ رتہ امرال پولیس کی تحویل میں تھے جنہیں تفتیش کے لئے تھانہ گنجمنڈی کی حوالات میں رکھا گیا تھا مسلح ڈکیتی اور قتل کی واردات کے بعدتعزیرات پاکستان کی دفعہ 302اور395 کے تحت درج مقدمہ نمبر 108/18میں ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے ملزمان شفیع اللہ اور ظہور الرحمان سکنہ ڈھوک درزیاں کو گزشتہ ماہ14اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا یاد رہے کہ رواں سال 27مارچ کوتھانہ رتہ امرال کے علاقے گلی نمبر15فاروقیہ چوک ڈھوک منگٹال میں 2مسلح موٹر سائیکل سواروں نے رہزنی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے جواں سال خاتون ٹیچرنازیہ کریم کو اس وقت قتل کر دیا تھاجب وہ سکول جانے کے لئے گھر سے نکلی میں ملزمان کی جانب سے پرس چھیننے کی کوشش میں مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر دی سینے میں گولی لگنے سے خاتون ہسپتال پہنچ کر جاں بحق ہو گئی تھی جبکہ ڈاکو زخمی خاتون سے نقدی اور موبائل چھین کر فرار ہو گئے تھے تاہم ایس ایس پی آپریشنز محمد بن اشرف کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ رتہ محمد ریاض ، محمد الیاس ،آر پی او آفس کی آئی ٹی ٹیم اوردیگر اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیم نے دونوں ملزمان کو منگل کے روز گرفتار کر لیاپولیس کی ٹیم کے لئے تعریفی سر ٹیفکیٹ اور نقد انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔