نواز شریف غدار ہے تو (ن)لیگ کے 180ارکان قومی اسمبلی اور کروڑوں ووٹرز بھی غدار ہیں، جعفر اقبال

کسی ایک ادارے یا سوچ کو اتنی ترویج نہ دیں کہ لوگ ایک دوسرے کو غدار اور کافر کہنے لگ جا ئیں ،پاکستان میں ممبئی حملوں کے مقدے میں تاخیر کے ذمہ دار نواز شریف ہیں یا عدلیہ آرمی چیف نے بھی کہا کہ ہم 40سال کا بویا آج کاٹ رہے ہیں، ان کے بیان کی بھی وضاحت ہونے چاہیے، وزیر مملکت میری ٹائم افئیرز کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

منگل مئی 23:38

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) وزیر مملکت برائے میری ٹائم افئیرز جعفر اقبال نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف غدار ہے تو مسلم لیگ(ن) کے 180ارکان قومی اسمبلی اور کروڑوں ووٹرز بھی غدار ہیں، کسی ایک ادارے یا سوچ کو اتنی ترویج نہ دیں کہ لوگ ایک دوسرے کو غدار اور کافر کہنے لگ جائیںٍ،،پاکستان میں ممبئی حملوں کے مقدے میں تاخیر کے ذمہ دار نواز شریف ہیں یا عدلیہ آرمی چیف نے بھی کہا کہ ہم 40سال کا بویا آج کاٹ رہے ہیں ان کے بیان کی بھی وضاحت ہونے چاہیے ۔

وہ منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ریاستی ادارے اور میڈیا نواز شریف کے بیان کو اس طرف لے گئے ہیں کہ ان کو دہشتگرد ڈیکلئیر کیا جا رہا ہے۔ اگر نواز شریف غدار ہے تو اس اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے 180ارکان اسمبلی،، کروڑوں لوگ جنہوں نے نواز شریف کو ووٹ دیا وہ سب بھی غدار ہیں۔

(جاری ہے)

نواز شریف کے جلسوں میں ہزاروں لوگ شرکت کر رہے ہیں اور ان کا نیانیہ عوام میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے ۔

خدارا عوام کی آواز کو سنیں اور عوام جس کو بھی ووٹ دیں اس کو اپنی مدت پوری کرنے دیں۔ کسی ایک ادارے یا سوچ کو اتنی ترویج نہ دیں کہ لوگ ایک دوسرے کو غدار اور کافر کہنے لگ جائیںٍ۔ نوا شریف سے پہلے جنرل حماد گل، جنرل مشرف، جنرل درانی، رحمان ملک،، سب یہ بات کہ چکے ہیں جو نواز شریف نے کہی ہے۔ آرمی چیف نے بھی کہا کہ ہم 40سال کا بویا آج کاٹ رہے ہیں ان کے بیان کی بھی وضاحت ہونے چاہیے۔

۔ہماری گزارش ہے کہ ہمارے ادارے بھارتی لابی کے پروپیگنڈے پر نہ چلیں اور حقائق دیکھیں کہ نواز شریف نے کہا کیا ہے۔ نواز شریف نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کا جو مقدمہ پاکستان کی عدالت میں چل رہا ہے اس کا فیصلہ آنا چاہیے تاکہ پاکستان اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو۔ اب مقدے میں تاخیر کے ذمہ دار نواز شریف ہیں یا عدلیہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما کل بھی اپنے قائد نواز شریف کے ساتھ تھے اور آج بھی ان کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

پاکستان سفارت قوانین اور آداب کا پابند ہے۔ کرنل جوزف کو سفارتی آداب کی بنا پر اپریکہ کے حوالے کیا گیا اور اب کرنل جوزف کے خلاف مقدمہ امریکہ میں چلے گا۔۔امریکہ نے پاکستانی سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں تو جواب میں پاکستان میں بھی امریکی سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔