بھارت میں صنفی امتیاز عروج پر،سالانہ2لاکھ50ہزارلڑکیاں موت کا شکار

صنفی امتیاز برتنے سے شرح اموات میں 22 فیصد تک پہنچ گئی،صنفی امتیاز تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ توجہ، بیماری سے بچائو،خوارک اور اسقاط حمل شامل، سی این این کی رپورٹ میں انکشاف

منگل مئی 23:39

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سی این این نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں صنفی امتیاز کے باعث سالانہ2لاکھ50ہزارلڑکیوں کو موت کی نذر کر دیا جاتا ہے،صنفی امتیاز کی بنیاد پر اسقاطِ حمل بھی شامل ہے،صنفی امتیاز تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ توجہ، بیماری سے بچائو اور خوارک شامل ہے،صنفی امتیاز برتنے سے شرح اموات میں 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

گیعر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت میں پانچ سال سے کم عمر کی 2 لاکھ 39 ہزار لڑکیاں محض صنفی امتیاز کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتی ہیں۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق ’دی لینسنٹ میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں محقق کریسٹفی گلیموٹو نے انکشاف کیا کہ اس رپورٹ میں پیدائش سے قبل ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں تاہم صنفی امتیاز کی بنیاد پر اسقاطِ حمل بھی شامل ہے اور اگر لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو ان کے لیے وسائل اور توجہ دونوں انتہائی محدود ہوتی ہے’۔

(جاری ہے)

محقق کا کہنا ہے کہ ‘صنفی امتیاز کا دائرہ کار صرف تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت توجہ، بیماری سے بچاؤ کی ویکسین اور لڑکیوں کی خوارک بھی شامل ہے’۔مذکورہ رپورٹ کے لیے بھارت کے 640 اضلاع میں ایسے عناصر کا جائزہ لیا گیا جہاں 5 سال سے کم عمر لڑکیوں کو موت سے بچایا جاسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق بھارت کی 35 میں سے 29 ریاستوں میں 5 سال سے کم عمر کی لڑکیوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہے۔۔بھارت میں 05-2000 کے درمیانی عرصے میں 4 سال سے کم عمر بچیوں کی موت کی شرح فی ہزار پیدائش میں 18.5 فیصد تھی تاہم موجودہ اعداد و شمار کے مطابق محض صنفی امتیاز برتنے سے شرح اموات میں 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔